بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بارش اور نہری پانی سے ٹیکس دے کر سیراب کی جانے والی زمین


سوال

ہماری ایک نہری زمین ہے،تین چار سال  سے اس پر نہر کا پانی جاری کردیا ہے،ہم اس کا آبیانہ (ٹیکس)بھی دیتے ہیں،اس سال ہم نے اپنی زمین کو صرف ایک بار پانی لگایا ہے، باقی آخر تک بارشیں ہوئی تھی،اب پوچھنا یہ ہے کہ اس سال اس زمین میں  زکات كا کتنا حصہ ہمیں دینا ہوگا؟

جواب

  اگر کوئی زمین  بارش سے بھی سیراب ہوتی  ہو اورآب پاشی پر کچھ خرچ  بھی کرنا پڑتا ہو،جیسےنہری زمینوں میں جن کے پانی کی قیمت حکومت کو ادا کرنی پڑتی ہے ،تو سیراب کرنے میں  جس کا تناسب زیادہ ہو گا عشر (10٪) یا نصفِ عشر  (20٪)کے واجب ہونے میں اسی کا اعتبار ہو گا، یعنی اگر بارش سے زیادہ عرصہ سیراب ہوئی تو عشر(10٪) لازم ہو گا اور اگر ٹیوب ویل وغیرہ سے زیادہ سیراب ہوئی تو نصفِ عشر(20٪) لازم  ہو گا۔

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ زمین  بارش سے زیادہ عرصہ سیراب ہوئی ہے ،لہذا  اس  پر عشر(10٪)لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة وفي كتب الشافعية أو سقاه بماء اشتراه وقواعدنا لا تأباه ولو سقى سيحا وبآلة اعتبر الغالب ولو استويا فنصفه".

(كتاب الزكوة،باب العشر،ج:2،ص:328،ط: سعيد)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر كذا في خزانة المفتين".

(كتاب الزكوة،الباب السادس في زكوة الزرع والثمار،ج:1،ص:186،ط: رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144410100785

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں