بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

باریک کپڑے میں نماز کا حکم


سوال

باریک کپڑا پہن کر نماز  پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

لباس  کا کم ازکم درجہ یہ ہے کہ وہ ( لباس) ساتر ہو، یعنی جس حصے کا چھپانا واجب ہے وہ کھلا نہ رہے، نہ ایسا باریک ہو کہ جسم نظر آنے لگے اور نہ اتنا چست ہو کہ بدن کے جن اعضا کو چھپانا ضروری ہے  ان میں سے کسی کی بناوٹ اور حجم نظر آجائے، لہٰذا اگر باریک کپڑا  اتنا باریک ہو کہ اس سے ستر نظر آتا ہو تو اُسے پہن کر نماز ادا کرنے سے نماز نہیں ہوتی،  الا یہ کہ اس کے اوپر کوئی بڑی چادر اوڑھ کر نماز ادا کی جائے۔ اسی طرح اگر لباس اتنا چست اور تنگ ہو کہ اس سے مستورہ اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کو پہننا، اسے پہن کر نماز پڑھنا، باہر نکلنا، لوگوں کو دکھانا  سب ناجائز ہے اور اس حالت میں دوسروں کا اسے دیکھنابھی ممنوع ہے۔

لیکن اگر لباس اتنا باریک نہ ہو کہ اس سے ستر نظر آتا ہو، مثلًا: مرد باریک قمیص پہنے لیکن نیچے بنیان ہو اور شلوار یا پاجامہ بھی موٹا ہو، یا لباس دوہرا ہونے کی وجہ سے اعضاءِ مستورہ نظر نہ آتے ہوں تو اس میں نماز ہوجائے گی۔ البتہ عورت کے لیے چوں کہ پورا جسم سوائے چہرے، ہتھیلیوں اور قدموں کے ستر ہے، اس لیے عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ باریک لباس سے ظاہر ہوا تو نماز نہیں ہوگی۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل(جلد 3ص: 321):

"س…باریک کپڑے پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں، لیکن گرمی کی شدت میں چوں کہ لان کے بنے ہوئے پورے سوٹ پہنے جاتے ہیں جس میں اگر تھوڑی بہت ٹانگیں بھی جھلکتی ہیں، آیا جائز ہے یا نہیں؟

ج… کپڑا اگر رنگ دار ہو تو بدن نہیں جھلکتا،  بہر حال اتنا باریک کہ بدن جھلکے اس کے ساتھ نماز نہیں ہوگی اور اگر اوپر سے موٹی چادر اوڑھ کر نماز پڑھی جائے تو ٹھیک ہے۔"

حلبی کبیر میں ہے:(ص: 214)

"إذا کان الثوب رقیقًا بحث یصف ماتحته أي لون البشرة لایحصل به سترة العورۃ."

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: لَايَصِفُ مَا تَحْتَهُ) بِأَنْ لَايُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ احْتِرَازًا عَنْ الرَّقِيقِ وَنَحْوِ الزُّجَاجِ (قَوْلُهُ: وَلَايَضُرُّ الْتِصَاقُهُ) أَيْ بِالْأَلْيَةِ مَثَلًا، وَقَوْلُهُ: وَتَشَكُّلُهُ مِنْ عَطْفِ الْمُسَبَّبِ عَلَى السَّبَبِ. وَعِبَارَةُ شَرْحِ الْمُنْيَةِ: أَمَّا لَوْ كَانَ غَلِيظًا لَايُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ إلَّا أَنَّهُ الْتَصَقَ بِالْعُضْوِ وَتَشَكَّلَ بِشَكْلِهِ فَصَارَ شَكْلُ الْعُضْوِ مَرْئِيًّا فَيَنْبَغِي أَنْ لَايَمْنَعَ جَوَازَ الصَّلَاةِ لِحُصُولِ السَّتْرِ. اهـ."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ١/ ٤١٠)

في عمدة القاري:

"أَنه صَلَّی اللَّه علیه وَسَلَّم  حذر أهله وَجَمِیع الْمُؤْمِنَات من لِبَاس رَقیق الثِّیاب الواصفة لأجسامهن بقوله: کم من کاسیة في الدنیا عاریة یوم القیامة، وفهم منه أن عقوبة لابسة ذلك أن تعری یوم القیامة".

 ( باب ماکان النبي صلی الله علیه وسلم یتجوز من اللباس ، ج: ۲۲، ص: ۲۰، ط: دار إحیاء التراث العربي)

في تکملة فتح الملهم:

"فکل لباس ینکشف معه جزء من عورة الرجل والمرأة لاتقره الشریعة الإسلامیة ..... وکذلك اللباس الرقیق أو اللا صق بالجسم الذي یحکي للناظر شکل حصة من الجسم الذي یجب ستره، فهو في حکم ماسبق في الحرمة وعدم الجواز".

( کتاب اللباس والزینة:۴/۸۸) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201137

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں