بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بری کے سامان کا حکم


سوال

لڑکے نے لڑکی کو ایک ہی  وقت میں تین طلاقیں دےدی،اب پوچھنا یہ ہے کہ وہ قیمتی  سامان(زیورات،سونا،چاندی وغیرہ) جو لڑکے کے گھر والوں نے لڑکی کو خرید کر دیا ہے،یہ سامان کس کی ملکیت  میں شمار ہوگا،جبکہ مذکورہ سامان لڑکے کے گھر پر ہی موجود ہیں اور لڑکا دو سال سے (جس وقت سے خاندان والوں  نے مذکورہ زیورات وغیرہ  خرید کر دئیے تھے اس وقت سے)اس کو اپنی ملکیت سمجھ کر  اس کی زکوٰۃ بھی ادا کررہا ہے ؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں چونکہ لڑکے کے گھروالوں نے لڑکی کو مذکورہ قیمتی سامان(زیورات،سونا،چاندی وغیرہ)تحفہ کے طور پر نہیں دیا تھا،بلکہ صرف استعمال کے لیے دیا تھا جیسا کہ شوہر زیورات کی زکوٰۃ ادا کرتا چلا  آرہا ہےتو اس صورت میں لڑکے کے گھر والے  ہی مذکورہ قیمتی سامان(زیورات،سونا،چاندی وغیرہ)کے مالک ہیں،لڑکی کا اس میں کوئی حق وحصہ نہیں ہے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(هي)لغة۔۔۔۔إعارةالشيء قاموس. وشرعا (تمليك المنافع مجانا)۔۔۔۔وحكمها كونها أمانة."

(کتاب العاریۃ،5/677،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"إذ لا شك في صدور العارية من بعض الأفراد، والعادة الفاشية الغالبة في أشراف الناس وأوساطهم دفع ما زاد على المهر من الجهاز تمليكا سوى ما يكون على الزوجة ليلة الزفاف من الحلي والثياب، فإن الكثير منه أو الأكثر عارية، فلو ماتت ليلة الزفاف لم يكن للرجل أن يدعي أنه لها بل القول فيه للأب أو الأم أنه عارية أو مستعار لها كما يعلم من قول الشارح."

(کتاب النکاح،باب المھر،مطلب مطلب في دعوى الأب أن الجهاز عاريۃ،ج3،ص156،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100888

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں