بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بڑے لگنے والے کھیرے بچھڑے کی قربانی


سوال

کیا ایسے بچھڑے کی قربانی جائز ہے جو کھیرا ہو مگر دیکھنے میں بڑا لگتا ہو ؟

جواب

قربانی کے جانور میں اصل عمر ہے، دانت عمر پوری ہونے کی علامت ہیں، لہٰذا اگر جانور کی عمر مکمل ہو تو اگرچہ دانت نہ آئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے۔ البتہ دانت آنے سے پہلے عمر مکمل ہونے کے حوالہ سے ہر شخص یا بیوپاری کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔  جانور اگر گھر کا پلا ہوا ہے اور عمر پوری ہے یا بیچنے والا ایسا دیانت دار، سچا اور تعلق والا ہے کہ اس کی بات پر یقین حاصل ہو تو قربانی جائز ہے اگرچہ دانت پورے نہ ہوں۔ عام شخص یا بیوپاری کی بات پر اعتماد نہ کیا جائے جب تک کہ مطلوبہ دانت نہ آجائیں؛ اس لیے کہ تجربہ یہی ہے کہ عمر مکمل ہونے سے پہلے مطلوبہ دانت نہیں آتے۔

لہٰذا اگر یقینی طور پر مذکورہ بچھڑا قربانی کی عمر یعنی دو سال یا اس سے زائد عمر کا ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔ اور اگر مذکورہ بچھڑا واقعتاً کھیرا ہے یعنی دو سال سے کم عمر کا ہے تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے ،اگرچہ ایسا جانور کتنا ہی بڑا کیوں نہ لگتا  ہو۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما سنه) فلايجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصة إذا كان عظيما، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر والثني ابن سنة والجذع من البقر ابن سنة والثني منه ابن سنتين والجذع من الإبل ابن أربع سنين والثني ابن خمس، وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولايمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئا لا يجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئًا يجوز ويكون أفضل، ولايجوز في الأضحية حمل ولا جدي ولا عجول ولا فصيل".

(كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں