بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بڑے جانور میں قربانی اور نذر کا حصہ رکھنا


سوال

 قربانی کے بڑے جانور میں ایک آدمی واجب قربانی کی اور دوسرا آدمی نذر کی نیت کرےتو قربانی کرنےوالے کی قربانی درست ہوگی یانہیں ؟

جواب

قربانی کی  بڑے جانور میں ایک یا چند حصے  واجب قربانی کے اور ایک یا بعض حصے نذر کی قربانی کی رکھے ہوں تو قربانی ادا ہوجائے گی، البتہ   مختلف  جہات کے واجب   کو ایک  جانور میں جمع کرنا بہتر نہیں ہے ،  نیز چوں کہ نذر کے قربانی کا گوشت  مال داروں کے لیے کھانا جائز نہیں ہے، اس لیے اس حصہ کےگوشت کو صدقہ کرنا لازم  ہوگا۔

الفتاوى الهندية (5 / 304):

" وَلَوْ أَرَادُوا الْقُرْبَةَ - الْأُضْحِيَّةَ أَوْ غَيْرَهَا مِنْ الْقُرَبِ - أَجْزَأَهُمْ سَوَاءٌ كَانَتْ الْقُرْبَةُ وَاجِبَةً أَوْ تَطَوُّعًا أَوْ وَجَبَ عَلَى الْبَعْضِ دُونَ الْبَعْضِ، وَسَوَاءٌ اتَّفَقَتْ جِهَاتُ الْقُرْبَةِ أَوْ اخْتَلَفَتْ بِأَنْ أَرَادَ بَعْضُهُمْ الْأُضْحِيَّةَ وَبَعْضُهُمْ جَزَاءَ الصَّيْدِ وَبَعْضُهُمْ هَدْيَ الْإِحْصَارِ وَبَعْضُهُمْ كَفَّارَةً عَنْ شَيْءٍ أَصَابَهُ فِي إحْرَامِهِ وَبَعْضُهُمْ هَدْيَ التَّطَوُّعِ وَبَعْضُهُمْ دَمَ الْمُتْعَةِ أَوْ الْقِرَانِ وَهَذَا قَوْلُ أَصْحَابِنَا الثَّلَاثَةِ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى، وَكَذَلِكَ إنْ أَرَادَ بَعْضُهُمْ الْعَقِيقَةَ عَنْ وَلَدٍ وُلِدَ لَهُ مِنْ قَبْلُ، كَذَا ذَكَرَ مُحَمَّدٌ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - فِي نَوَادِرِ الضَّحَايَا، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا إذَا أَرَادَ أَحَدُهُمْ الْوَلِيمَةَ وَهِيَ ضِيَافَةُ التَّزْوِيجِ وَيَنْبَغِي أَنْ يَجُوزَ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - أَنَّهُ كَرِهَ الِاشْتِرَاكَ عِنْدَ اخْتِلَافِ الْجِهَةِ، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَوْ كَانَ هَذَا مِنْ نَوْعٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَحَبَّ إلَيَّ، وَهَكَذَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -، وَإِنْ كَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ صَبِيًّا أَوْ كَانَ شَرِيكُ السَّبْعِ مَنْ يُرِيدُ اللَّحْمَ أَوْ كَانَ نَصْرَانِيًّا وَنَحْوَ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ لِلْآخَرَيْنِ أَيْضًا كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 326):

" قَدْ عُلِمَ أَنَّ الشَّرْطَ قَصْدُ الْقُرْبَةِ مِنْ الْكُلِّ، وَشَمِلَ مَا لَوْ كَانَ أَحَدُهُمْ مُرِيدًا لِلْأُضْحِيَّةِ عَنْ عَامِهِ وَأَصْحَابُهُ عَنْ الْمَاضِي تَجُوزُ الْأُضْحِيَّةَ عَنْهُ وَنِيَّةُ أَصْحَابِهِ بَاطِلَةٌ وَصَارُوا مُتَطَوِّعِينَ، وَعَلَيْهِمْ التَّصَدُّقُ بِلَحْمِهَا وَعَلَى الْوَاحِدِ أَيْضًا لِأَنَّ نَصِيبَهُ شَائِعٌ كَمَا فِي الْخَانِيَّةِ، وَظَاهِرُهُ عَدَمُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْهَا تَأَمَّلْ، وَشَمِلَ مَا لَوْ كَانَتْ الْقُرْبَةُ وَاجِبَةً عَلَى الْكُلِّ أَوْ الْبَعْضِ اتَّفَقَتْ جِهَاتُهَا أَوْ لَا: كَأُضْحِيَّةٍ وَإِحْصَارٍ وَجَزَاءِ صَيْدٍ وَحَلْقٍ وَمُتْعَةٍ وَقِرَانٍ خِلَافًا لِزُفَرَ، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ الْكُلِّ الْقُرْبَة"۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201139

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں