بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

بارہ ربیع الاول کو بارہ وفات کہنے کی وجہ


سوال

بارہ ربیع الاول کو بارہ وفات کیوں کہتے ہیں؟

جواب

بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا انتقال بارہ ربیع الاول کو ہوا تھا؛ اس لیے بعض لوگ بارہ ربیع الاول کو بارہ وفات کہتے ہیں، البتہ وفات کی تاریخ میں محققین نے  ۲  ربیع الاول کو  راجح قرار دیاہے۔

تاريخ الطبري، تاريخ الرسل والملوك میں ہے:

"قال أبو جعفر: أما اليوم الذي مات فيه رسول الله ﷺ، فلا خلاف بين أهل العلم بالأخبار فيه أنه كان يوم الاثنين من شهر ربيع الأول، غير أنهاختلف في أي الإثانين كان موته ﷺ؟ فقال بعضهم في ذلك ما حدثت عن هشام بن محمد بن السائب، عن أبي مخنف، قال: حدثنا الصقعب بن زهير، عن فقهاء أهل الحجاز، قالوا: قبض رسول الله ﷺ نصف النهار يوم الاثنين، لليلتين مضتا من شهر- ربيع الأول، وبويع أبو بكر يوم الاثنين في اليوم الذي قبض فيه النبي ﷺ.

وقال الواقدى: توفى يوم الاثنين لثنى عشرة ليلة خلت من شهر ربيع الأول، ودفن من الغد نصف النهار حين زاغت الشمس، وذلك يوم الثلاثاء."

(ذکر اخبار الواردہ بالیوم الذی توفی فیہ رسول اللہ ﷺ،سنہ احدی عشرہ ج نمبر ۳ ص نمبر ۱۹۹،دار التراث)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200737

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں