بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قرض لینا


سوال

بینک سے لون لینا کیسا ہے اگر سخت ضرورت ہو تو؟

جواب

بینک  مختلف کاموں کے لیے جو قرضہ دیتے ہیں وہ سودی قرضہ ہوتا ہے،   جس طرح سودی قرضہ دینا حرام ہے اسی طرح سودی قرضہ لینا بھی حرام ہے، اور حدیث شریف میں سود لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے،کسی بھی طرح کا سودی معاملہ کرنا اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلانِ جنگ ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿ يا أيها الذين اٰمنوا اتقوا الله وذروا ما بقي من الربا ان كنتم مؤمنين فان لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله وإن تبتم فلكم رءوس أموالكم لاتظلمون ولاتظلمون وإن كان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة وأن تصدقوا خير لكم إن كنتم تعلمون﴾ [البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠]

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو  اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طر ف سے اور اگر تم توبہ کرلوگےتو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی  ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو اور زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔  (بیان القرآن )

اگر کوئی شخص مکان یا کاروبار وغیرہ کے سلسلہ میں ضرورت مند ہو تو اسے چاہیے کہ کسی سے بلاسود قرض حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور اگر بغیر سود کے قرض میسر نہ ہوتو اپنی ضروریات میں  کفایت شعاری سے کام لے،اورپھر جب پیسے جمع ہو جائیں تو اُن پیسوں سے اپنی ضروریات کا بندوبست کرلے۔اس دوران جو تکالیف آئیں ان پر صبر کرنا چاہیے؛ کیوں کہ مؤمن کی نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ جس حال میں راضی ہوں اور جس عمل کے نتیجے میں آخرت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ ہو اسے مدِ نظر رکھتے ہوئے ان شاء اللہ دنیا کے مصائب ہیچ معلوم ہوں گے۔

اگر واقعۃً ایسی ضرورت کے لیے قرض درکار ہو جو شرعی ضرورت کے تحت آتی ہو،(مثلاً فاقوں تک نوبت پہنچ جائے اور جان جانے کا خطرہ ہو)  اور کوئی بھی غیر سودی قرض دینے کے لیے تیار نہ ہو اور قرض لیے بغیر چارہ نہ ہو تو بقدرِ ضرورت قرض لینے کی اجازت ہوگی،تاہم اس صورت میں بھی دو باتیں ملحوظ رہیں: (1) سودی قرض دینے والا فرد یا ادارے کے ذمہ داران گناہ گار ہوں گے۔ (2) قرض لینے والے کو بھی چاہیے کہ وہ استغفار کرتا رہے، اور قدرِ ضرورت سے نہ بڑھے، اور ضرورت پوری ہوتے ہی فوری طور پر قرض کی ادائیگی کا انتظام کرے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں