بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک سے ملنے والے نفع اور اس پر زکاۃ کا حکم


سوال

میں نے ایک اسلامی بینک میں انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے، اس سے جو منافع آتا ہے، وہ میرے اکاؤنٹ میں جمع ہوجاتاہے، اور میں اس کو خرچ بھی کرلیتا ہوں۔کیا اس منافع پر بھی زکاۃ دینی ہوگی؟ انویسمنٹ پر تو دینی ہی ہوتی ہے۔

جواب

ملک کے جمہور علمائے کرام اور مقتدر مفتیانِ کرام کی رائے کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات مکمل طور  پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں؛ اس لیےکسی بھی مروجہ اسلامی بینک میں انویسمنٹ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ تفصیلی بحث کے لیے ’’مروجہ اسلامی بینکاری (مطبوعہ مکتبہ بینات جامعہ بنوری ٹاؤن)‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ کریں۔
لہذا آپ کا کسی بھی  بینک میں انویسمنٹ کرنا اور اس کا منافع لینا اور خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔

باقی اصل رقم جو بینک اکاؤنٹ میں جمع ہے، ا س پر سال گزرنے کے بعد  زکاۃ کی ادائیگی لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200148

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے