بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بنک میں زمین کے کاغذات رکھوا کر قرض لینا


سوال

زید کی  زرعی زمین پر کوئی با اثرظالم ناجائز قبضہ کر کے اس زمین کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے، جب کہ زید اپنی زمین اس سے آزاد کرانے سے قاصر ہے، اور زیداپنی زندگی کا گزر  بسراسی زمین سے کرتاہے،  زید کو کسی دوست نے مشورہ دیا، آپ اسی زمین کے کاغذات کسی بینک میں گروی رکھوا کر بینک سے، قرضہ لےلو،  قرضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں بینک  یہ زمین نیلام کر کے اپنے پیسے وصول کر لےگا اور قبضہ بھی چھڑا لے گا ،اب سوال یہ ہے کہ:

کیا اس مجبوری میں زید کا بینک سے قرضہ لینا جائز ہے؟ ورنہ کروڑوں کی زمین وہ ظالم مفت میں ہڑپ کر  جائے گا اور زید کنگال۔

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے، اور بینک  سے   ملنے والا قرض سراسر سود پر مشتمل ہوتا ہے،اور بینک سے قرض لینا سودی معاملہ ہے،  اور سودی قرض لینا جائز نہیں  خواہ کوئی چیز گروی رکھوا کر لیا جائے یا بغیر گروی  رکھے  لیا جائے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  زید کے لیے بنک سے سودی قرضہ لینا جائز نہیں ہے ،بلکہ سائل کو چاہیے کہ اپنی زمین بازیاب کرانے کے لیے ذی اثر لوگوں کا تعاون حاصل کرے اور مذکورہ شخص کو سمجھانے بجھانے  کی کوشش کرے ،  پھر بھی مذکورہ شخص اپنی کاروائی سے باز نہ آئے تو زیدکوقانونی کاروائی کر نے کا اختیار ہے۔

نیز آدمی  اگر حرام سے بچنے  کے لیے ہمت بلند رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے، اور اللہ تعالی ایسی جگہ سے بندوبست کرتے ہیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"{ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا }" [الطلاق: 2، 3]

ترجمه:"اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے (مضرتوں سے ) نجات کی شکل نکال دیتا ہے "۔(بیان القرآن:2)

حدیث مبارک میں ہے:

"عن جابر قال: «لعن رسول الله صلَّى الله علَيهِ وسلَّم آكل الرّبا، ومُؤكِله، وكاتبه، وشاهديْهِ» ، وقال: «هم سوَاء»".

(الصحیح لمسلم، کتاب المساقات،3/1219،دار احیاء التراث )

      مشكاة المصابيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءا أيسرها أن ینکح الرجل أمه»."

(کتاب البیوع ،باب الربوا،1/246 ، ط؛ قدیمی)

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

( کتاب الحواله، باب کل قرض جر  منفعة،14/513،ط؛ ادارۃ القرآن)

      الاشباہ والنظائر میں ہے:

"وفي القنية و البغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى)".

(ص؛93، الفن الاول، القاعدة الخامسة، ط:قدیمی)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502102222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں