بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک سے لی ہوئی گاڑی کو خریدنا


سوال

بینک سےلی ہوئی گاڑی آگے کسی سے  خریدنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بینک سے  لی گئی گاڑی کو اس کے مالک سے کل قیمت مقرر کرکے خریدنا  درست ہے خواہ نقد میں خرید ے یا اس شخص سے قسطوں پر خریدے البتہ قسطوں میں خریدنے کی صورت میں قسطوں میں خرید و  فروخت کے درست ہونے کی  تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے کہ معاملہ  متعین  ہو ، قسط کی کل رقم / قیمت متعین ہو  ،  قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اضافہ (جرمانہ) کی شرط نہ ہو ، اگر یہ شرط ہوئی تو  پورا معاملہ فاسد ہوجائیگا ۔ باقی زیر نظر مسئلہ میں ایک شرط یہ ہے کہ  خریدار قیمت  کی ادائیگی کا معاملہ بینک سے نہ کرے، اس صورت میں بینک سے  گاڑی خریدنے کا گناہ صرف بینک سے خریدنے والے پر ہوگا،لیکن اگر اس نے گاڑی اس کے مالک سے خرید کر یہ معاہدہ کیا کہ  اس گاڑی کی بقیہ قسطیں بینک والوں کو ادا کروں  گا  تو  ایسی خرید و فرخت نہیں کی جائے،کیونکہ اس صورت میں  اس گناہ میں یہ خریدار بھی شریک ہوجائے گا۔

درر الحكام شرح مجلة الاحكام میں ہے:

"البيع ‌مع ‌تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح."

(الكتاب الأول البيوع ، الباب الثالث ،  الفصل الثاني ج: 1 ص: 227 ط: المکتبة الطارق )

فتاوی ہندیہ   میں ہے:

"إذا تصرف في المغصوب وربح فهو على وجوه إما أن يكون يتعين بالتعيين كالعروض أو لا يتعين كالنقدين فإن كان مما يتعين لا يحل له التناول منه قبل ضمان القيمة وبعده يحل إلا فيما زاد على قدر القيمة وهو الربح فإنه لا يطيب له ولا يتصدق به وإن كان مما لا يتعين فقد قال الكرخي: إنه على أربعة أوجه إما إن أشار إليه ونقد منه أو أشار إليه ونقد من غيره أو أطلق إطلاقا ونقد منه أو أشار إلى غيره ونقد منه وفي كل ذلك يطيب له إلا في الوجه الأول وهو ما أشار إليه ونقد منه قال مشايخنا لا يطيب له بكل حال أن يتناول منه قبل أن يضمنه وبعد الضمان لا يطيب الربح بكل حال وهو المختار والجواب في الجامعين والمضاربة يدل على ذلك واختار بعضهم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام." 

(كتاب الغصب، الباب الثامن في تملك الغاصب والانتفاع به، ج:5، ص:141، ط:مكتبة رشيدية) 

فقط والله  اعلم 


فتوی نمبر : 144501100569

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں