بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک سے گاڑی لینے کا حکم


سوال

 میں نوکری کرتی ہوں،  میرے شوہرزمین دار ہیں،  ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں،  میرے پاس ایک گاڑی ہے جو آئے دن خراب ہوئی رہتی ہے، میں  نوکری کرتی ہوں اور گاڑی پر جاتی ہوں  کیوں کہ میرے ساتھ میرا بیٹا اور میرے جیٹھ کی دو بیٹیاں جاتی ہیں،  گاڑی کے آئے دن خراب ہونے کی وجہ سے مجھے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جب اپنے شوہرسے بات کرتی ہوں تو لڑائی جھگڑا ہوتا ہے،  کچھ عرصہ پہلے انہوں نے مجھے کہا تھا  بینک سے گاڑی لینے کا لیکن میں نے سود کی وجہ سے نہیں لی، کیا کوئی ایسی صورت حال ہے کہ شدید مجبوری میں سود پر گاڑی لے لوں؟کیوں کہ میں گاڑی پرنہیں جاتی تو بھی ہمارے گھر میں لڑائی جھگڑا ہی ہوگا، میرے چار بچے ہیں،  دو بیٹے اور دو بیٹیاں،  اور بیٹیاں سپیشل ہیں،  مجھے ان کے علاج میں بھی خرچ کرنا ہوتا ہے،  برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے،  بینک  سے   ملنے والا قرض  یا کار فائنانس کا معاملہ سراسر سود پر مشتمل ہوتا ہے، لہٰذا آپ کے لیے بینک سے گاڑی لینا جائز نہیں ہے۔

"قرآن کریم میں ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (٢٧٨) }

 فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُسُ أَمْوالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ (٢٧٩) [البقرة : 278-279]

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے، اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ (بیان القرآن )

حدیث مبارک میں ہے:

"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»".

(الصحیح لمسلم، 3/1219، کتاب المساقات،باب الربا، ط:دار احیاء التراث ، بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407100962

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں