بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک سے زکاۃ کی رقم بھیجنا


سوال

 زکاۃ کی رقم بینک کے ذریعہ بھیجنا کیساہے؟ اور سات سو لاکھ والی زمین اور مکان والی ساس کو زکاۃ دینا جائز ہے جب کہ ان کے پاس زمین اور مکان کے علاوہ کچھ پیسہ نہ ہو؟

جواب

زکاۃ کی رقم بینک کے ذریعہ بھیجنا درست ہے۔ تاہم یہ ملحوظ رہے کہ اگر بینک رقم بھیجنے پر سروس چارجز لیتا ہے تو یہ رقم زکاۃ میں محسوب نہیں ہوگی۔

اگر ساس کی زمین اور مکان ضرورت و استعمال سے زائد ہو تو وہ صاحبِ نصاب ہے، اسے زکاۃ نہیں دے سکتے اور اگر ضرورت سے زائد نہ ہو اور اس کے علاوہ بھی ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان نہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اسے زکاۃ دے سکتے ہیں۔ 

شامی میں ہے:

"(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم".  (۲ /۲۶۲، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201666

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں