بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بينک سے سودی قرضہ لینے کا کفارہ


سوال

بنک سے سود پہ قرضہ لیا پھر اچانک توبہ کا خیال آ گیا ہو، تو کفارہ کیا ہو گا اس قرضہ پہ لی جانے والی رقم کا؟

جواب

دینِ اسلام میں سودی معاملہ کرنا (سود لینا، دینا، دونوں) سخت حرام ہے۔ ایک حدیث میں ہے:

"سود کے (وبال کے) تہتر دروازے ہیں، ان میں سے سب سے ہلکا وبال ایسا ہے جیسے کوئی شخص  اپنی ماں کے ساتھ (معاذ اللہ) زنا کرے۔"

عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الربا ثلاثة وسبعون بابًا، أيسرها مثل أن ينكح الرجل أمه، وإن أربى الربا عرض الرجل المسلم» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه"

(أخرجه الحاکم: في «کتاب البیوع» (2/ 37) برقم (2259)،ط. دار المعرفة، بيروت)

  بہر حال! سائل کو سودی معاملات سے توبہ کا خیال آنا مستحسن ہے۔ اس گناہ کا کفارہ یہ ہے کہ سائل فورًا وہ قرضہ واپس کرے، اور دل سے اس پر نادم ہوکر توبہ واستغفار کرے، اور آئندہ ایسے معاملات میں نہ پڑے۔

 

 تفسر روح المعانی میں ہے:

"أخرجه ابن مردويه عن ابن عباس قال: «قال معاذ بن جبل: يا رسول الله ما التوبة النصوح؟ قال: أن يندم العبد على الذنب الذي أصاب فيعتذر إلى الله تعالى ثم لايعود إليه كما لايعود اللبن إلى الضرع» ... وقال الإمام النووي: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن يقلع عن المعصية وأن يندم على فعلها وأن يعزم عزمًا جازمًا على أن لايعود إلى مثلها أبدا فإن كانت تتعلق بآدمي لزم رد الظلامة إلى صاحبها أو وارثه أو تحصيل البراءة منه، وركنها الأعظم الندم."

(سورة التحریم (14/ 352، 354) تحت رقم الآیة(8)۔ ط۔ دار الكتب العلمية - بيروت،الطبعة: الأولى، 1415 هـ)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144201201157

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں