بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک سے لیے جانے والے سودی قرضہ پر گواہ بننے اور کاغذات پر بطور گواہ دستخط (سائن) کرنے کا حکم


سوال

بینک سے لون (قرضہ) لینے پر گواہ کے طور پر سائن کرنا کیسا ہے؟

جواب

بینک سے سودی قرضہ کے لین پر گواہ بننا اور کاغذات پر بطور گواہ دستخط کرنا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ نبی کریم ﷺ  نے حدیثِ مبارک میں سود کھانے والے، کھلانے والے،سودی معاہدہ  لکھنے والے اور  اس پر گواہ بننے والے پر لعنت کی ہے اور گناہ  میں ان سب کو برابر قرار دیا ہے۔

صحيح مسلم  (5 / 50):

"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا و موكله و كاتبه و شاهديه، و قال: هم سواء."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202744

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں