بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قسطوں پر سامان خریدنا


سوال

ہماری  مسجد کے امام صاحب نے ایک موبائل خریدا ہے اور وہ بینک کے ذریعے قسط پر لیا ہے، اس میں انٹرسٹ  0% ہوتا ہے،  لیکن اس میں ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ قسط متعین تاریخ پر ادا کرنا ضروری ہے، اگر ایک دن کی تاخیر ہو جائے تو متعینہ مقدار چکانی پڑتی  ہے اور ہمارے علاقے میں مفتیانِ  کرام نے اس کے  عدمِ  جواز کا مسئلہ بتایا ہے اور امام صاحب کو یہ مسئلہ بتایا گیا ہے اس کے با وجود امام صاحب اس طرح ہی موبائل، واشنگ مشین، اے سی، وغیرہ خریدتے ہیں، تو اب اس صورت میں امام صاحب کا نماز پڑھانا کیسا ہے اور ان کے  پیچھے نماز  بغیر  کراہت  ہو جائے  گی؟

جواب

بینک کے نظام کی بنیاد سود پر ہے سود کا معاملہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے، بے شمار قرآنی آیات اوراحادیث میں اس کی شناعت اور قباحت ذکر ہوئی ہے، ؛ لہٰذا  سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بینک سے قسطوں پر  کوئی بھی چیز لینا شرعًا جائز نہیں ہے، خواہ خریدار کوئی بھی ہو، اس سے مسئلے کے حکم میں فرق نہیں آتا۔

باقی  دار الافتاء کا ضابطہ یہ ہے کہ جب کسی شخص کو متعین کرکے سوال کیا جائے تو جانبین کا موقف سن کر، یا مستند ثبوت کی روشنی میں جواب دیا جاتاہے، اور امام، مؤذن یا کمیٹی والوں کے بارے میں فتوے کے اجرا کے لیے ضابطہ یہ ہے کہ مسجد کے لیٹر ہیڈ پر انتظامیہ کی طرف سے سوال ارسال کیا جائے تب جواب جاری کیا جاتاہے۔

لہٰذا مذکورہ امام کے پیچھے نماز درست ہونے نہ ہونے سے متعلق مسئلہ معلوم کرنے کے  لیے مسجد کے لیٹر پر  دستی   یا بذریعہ ڈاک استفتا  جمع کرواکر جواب حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادةً أو هديةً، فأسلف علی ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا."

(14/513، باب كل قرض جر  منفعة، كتاب الحوالة، ط: إدارة القرآن) فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144204200318

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں