بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

بینک سے سودی قرض لینا اور اگر لے لیا ہو تو کیا حکم ہے؟


سوال

بینک سےسود پر قرض لینا کیسا ہے؟ اگرکوئی آدمی یہ قرض لے لے اور اب ادائیگی میں پریشانی ہورہی ہو تو اس کا کیا حل ہے؟

جواب

سودی معاملہ کرنا یعنی سودی قرضہ لینا اور دینا سخت حرام ہے۔ ایک حدیث میں ہے:

"سود کے (وبال کے) تہتر دروازے ہیں، ان میں سے سب سے ہلکا وبال ایسا ہے جیسے کوئی شخص  اپنی ماں کے ساتھ (معاذ اللہ) زنا کرے۔"

بہرحال! اگر سودی قرضہ لے لیا ہے تو اپنے اس فعل سے سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، آئندہ نہ لینے کا عزم کریں، اور جس قدر جلدی ہوسکے اس معاملے سے جان چھڑا کر آئندہ کبھی سودی معاملہ نہ کریں،  ان شاء اللہ اس قرض کی ادائیگی کے لیے درج ذیل وظائف معین ہوں گے، سہولت سے جو ہوسکے پڑھ لیں، اور ممکن ہو تو سب بھی پڑھ سکتے ہیں:

1- یہ دعا روزانہ 21 بار پڑھیں: " اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنی بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ."

2- ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں: " اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ، وَأَعُوْذُبِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ."

3- دورد شریف صبح وشام ۲۱-۲۱ مرتبہ پڑھاکریں۔

4- سورۃ الشوریٰ کے دوسرے رُکوع کی آخری آیت:’’اَللهُ لَطِیْفٌ بِعِبَادِه ... الخ“ (۲۵واں پارہ، سورۃ الشوریٰ آیت نمبر: 19) آخر تک اسی (80) مرتبہ فجر کے بعد پڑھا کریں۔

"عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الربا ثلاثة وسبعون بابًا، أيسرها مثل أن ينكح الرجل أمه، وإن أربى الربا عرض الرجل المسلم» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه."

(أخرجه الحاکم: في «کتاب البیوع» (2/ 37) برقم (2259)،ط. دار المعرفة، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں