بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کی آمدنی کاحکم


سوال

میرے ابو بینک میں نوکری کرتے ہیں، میں اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپورمیں بی ایس سی کا طالب علم ہوں ۔کیامیں اپنے والد صاحب کی رقم استعمال کرسکتا ہوں ؟میراکوئی اور ذریعۂ معاش بھی نہیں ہے ،کیا میں دینی تعلیم حاصل کرسکتا ہوں؟ جبکہ میرے والدین اس کوپسند نہیں کرتے

جواب

صورت مسؤلہ میں بینک ایک سودی ادارہ ہے اورسود کی آ مدنی سے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے جو ناجائز ہے اس لیے اس آمدنی کا استعمال سائل کے لیے جائز نہیں۔ بقدر ضرورت علم دین کا حصول ہر مسلمان پرفرض ہے بحیثیت مسلمان والدین کو اس پر خوش ہونا چاہیے کہ بچہ علم دین حاصل کرنے میں شوق ورغبت رکھ رہاہے،سائل علم دین حاصل کرنے میں لگ سکتاہے بلکہ بہتر ہے۔


فتوی نمبر : 143101200237

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں