بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کا اجتماعی قربانی میں قرض لے کر حصہ رکھوانا


سوال

بینک میں ملازمت پیشہ افراد مدرسہ اسلامیہ کے زیر انتظام اجتماعی قربانی میں حصہ لینا چاہتے ہیں اگر وہ کسی سے قرض لے کر حصہ ڈالیں جس کی آمدن حلال ھو تو کیا یہ طریقہ ٹھیک ہےیا بینک میں ملازمت کرنے والا کبھی بھی اجتماعی قربانی میں حصہ نہیں لے سکتا جب تک وہ بینک میں ملازم ہے؟ براءے مہربانی جواب جلد دیں نوازش ہو گی.جزاک اللہ خیراً.

جواب

حرام آمدن والا شخص، حلال آمدن والے شخص سے قرضہ لے کر، ان پیسوں سے اجتماعی قربانی میں شرکت کر سکتا ہے۔


فتوی نمبر : 143511200016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے