بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1441ھ- 11 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کو قربانی کے حصہ میں شریک کرنا


سوال

سودی کاروبار والے اور بینک ملازم کو قربانی میں شریک کر سکتے ہیں؟

جواب

قربانی میں اگرکوئی حرام آمدن والا حصہ دار شامل ہو، مثلاً: بینک کا کوئی ملازم یا انشورنس کا کاروبار کرنے والا، سودی کاروبار کرنے والا شریک ہو جس کا ذریعہ آمدنی صرف حرام ہو، یا اس کی غالب آمدنی حرام ہو تو شرکاء میں سے کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی، اس لیے حرام آمدن والے کو قربانی میں شریک نہ کیا جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200369

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں