بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک میں ملازمت کرنے سے متعلق چند سوالات


سوال

1) میں ایم سی بی بینک میں اکاؤنٹنٹ ہوں، معلوم یہ کرنا ہے کہ میری تنخواہ حلال ہے یا حرام؟ اور اگر میں اس تنخواہ میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کروں تو ثواب ملے گا یا نہیں؟

2) کیا بینک میں جاب کرنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا یعنی نماز روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا؟

3) بینک میں کام کرنے والا مسلمان ہوتا ہے یا نہیں یعنی کیا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟

جواب

1) بینک میں کسی بھی قسم کی ملازمت کرنا جائز نہیں ہے اور بینک کی ملازمت سے ملنے والی تنخواہ حرام ہے، مالِ حرام کا حکم یہ ہے کہ اگر مالک معلوم ہو تو اس کو واپس کردیا جائے اور اگر مالک معلوم نہ ہو تو ثواب کی نیت کے بغیر سارا مال صدقہ کردیا جائے، لہذا اس کو صدقہ کرکے کسی قسم کے اجر کی امید رکھنا درست نہیں۔

مزید تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں:

بینک کی نوکری اور تنخواہ کا حکم

2)حدیث شریف کا مفہوم ہےکہ بندہ جب حرام لقمہ پیٹ میں ڈال لیتا ہے تو چالیس دن تک اُس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا، تاہم عمل کے قبول نہ ہونے سے   مراد یہ ہے کہ قبول ہونے پر جو اجر و ثواب ملتاوہ نہیں ملے گا،  البتہ ذمہ سے فرض ساقط ہو جائے گا،  لہذا بینک میں ملازمت کرنے والے کی نماز، روزے، وغیرہ کی جو فرضیت ہے وہ تو ادا ہو جائے گی، مگر ثواب نہیں ملے گا۔

3)بینک میں ملازمت کرنےوالا کافر نہیں ہوتا، تاہم سودی لین دین میں معاونت کرنے اور حرام کمانے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء".

(با ب لعن آکل الربا، ومؤکله،ج:2، ص:28، ط:الهندیة)

ترجمہ:" حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔"

المعجم الاوسط میں ہے:

"ان العبد لیقذف اللقمة الحرام فی جوفہ ما یتقبل اللہ منہ عمل اربعین یوماً اھ."

(باب المیم، ج:6، ص:310، ط:دارالحرمین)

فتاوی شامی میں ہے: 

"لأنّ سبیل الكسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علي صاحبه ."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة‌‌، باب الاستبراء وغيره، فصل فی البیع، ج:6، ص:385، ط:سعید)

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"والصحيح أنه إن استحل ذلك عند فعل المعصية كفر، و إلا لا، وتلزمه التوبة إلا إذا كان ‌على ‌وجه ‌الاستخفاف فيكفر أيضا."

(خطبة الكتاب،ص:6،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں