بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک میں ضمانت پر رکھے گئے زیورات پر زکات کا حکم


سوال

بینک سے قرض لینے کی صورت میں بینک میں بطورِ ضمانت رکھوائے گئے سونے پر زکات  کا کیا حکم ہے ؟

جواب

سودی معاملہ اور سودی لین دین پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں ،اور سودی لین دین قرآن وحدیث کی رو سے حرام ہے،نیز اسلام میں جس طرح سود لینا حرام وناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام وناجائز ہے اور احادیثِ  مبارکہ میں دونوں پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں؛ اس لیے سودی معاہدہ کرنااور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کوئی شخص بینک سے قرض لیتا ہے تو نفسِ قرض کی رقم  حرام نہیں کہلائے گی ، البتہ اس کامعاہدہ اور سود دینے کا عمل  ناجائز وحرام ہوگا۔

ضمانت پر رکھی ہوئی چیز کو شریعت کی اصطلاح میں رہن کہا جاتا ہے اور اس پر زکات کا حکم یہ ہے  گروی (رہن) رکھے ہوئے اشیاء کی زکات   نہ تو راہن کے ذمہ واجب ہوتی ہے اور نہ ہی مرتہن کے ذمہ پر، کیوں کہ زکات   کے وجوب کے لیے مالِ زکات   کی ملکیت اور اس مال پر قبضہ دونوں  شرط ہے، جب کہ راہن (گروی رکھوانے والے) کو  گروی رکھے ہوئے اشیاء  پر قبضہ اور تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا،  جب کہ مرتہن (جس کے پاس  گروی رکھاہو) کو گروی کے اشیاء  کی ملکیت حاصل نہیں ہوتی۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں بینک میں قرض کے بدلہ بطور ِ ضمانت رکھے گئے زیورات پر زکات لازم نہیں ہوگی ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج۔۔۔۔۔۔ولا على الراهن إذا كان الرهن في يد المرتهن هكذا في البحر الرائق".

(کتاب الزکات،ج:1،ص:172،دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے :

"(فلا زكاة على مكاتب) لعدم الملك التام، ولا في كسب مأذون، ولا في مرهون بعد قبضه

(قوله: ولا في مرهون) أي لا على المرتهن لعدم ملك الرقبة ولا على الراهن لعدم اليد، وإذا استرده الراهن لا يزكي عن السنين الماضية، وهو معنى قول الشارح بعد قبضه، ويدل عليه قول البحر".

(کتاب الزکات،ج:2،ص:263،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100642

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں