بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک میں چائے بیچنے کی مد میں ملنے والے پیسوں کا حکم


سوال

ہماری نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ چائے کی دکان ہے ،تو جو پیسےبینک سےچائے کی مد میں  آئیں گے ،  وہ حرام ہیں یا حلال  ؟اس کے بارے میں وضاحت کر دیں، بینک سودی ہے۔

جواب

بینک والے چائے کی مد میں جوپیسے دیتے ہیں ،اگر وہ متعینہ طور پر  بینک سے  کمائی ہوئی رقم میں سے  دیتے ہیں ، تو اس میں کراہت ہے اور اگر وہ متعینہ طور پر  بینک سے کمائی ہوئی رقم میں سے  نہیں دیتے ،تو اس صورت میں چائے کی مد میں آنے والے پیسے حلال ہوں گے  ۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :

"توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال:

رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ."

(رد المحتار5/ 235ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200465

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں