بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک میں فکس ڈپازٹ کے طور پر رقم رکھوانا


سوال

ہم جو بینکوں میں پیسہ فکس ڈیپازٹ کرتے ہیں اس سے بینک تجارت کرتا ہے معین مدت کے بعد منافع پر زائد رقم دیتاہے، کیا یہ سود ہے؟

جواب

بینک کا مدار سودی نظام پر ہے اور بینک منافع  کے نام سے جو کچھ دیتا ہے شرعاً وہ سود کے حکم  میں  ہے، اور سود لینا، دینا دونوں  ناجائز اور حرام ہے، سودی معاملات کرنے والوں پر  رسول اللہ ﷺ نے لعنت  کی ہے، لہذا بینک میں فکس ڈپازٹ کے طور پر  رقم رکھوانا ناجائز ہے، اور اس پر ملنے والی رقم سود ہے۔ اگر کبھی بینک میں ضرورتاً رقم رکھوانا بھی پڑے تو ایسے اکاؤنٹ میں رکھنا ضروری ہے جس پر نفع (سود) نہ ملتا ہو جیسے کرنٹ اکاؤنٹ، لاکرز۔

  اگر  بینک میں فکس ڈپازٹ کے طور  پر  رقم رکھوالی گئی تو سب سے پہلے ایسے   معاملہ  کو  ختم کروائیں  اور توبہ واستغفار کریں،  اس  اکاؤنٹ سے صرف اپنی اصل رقم وصول کرلیں، اس پر ملنے والا منافع  (سود )  وصول ہی نہ کریں، اس لیے کہ سود کا استعمال  جس طرح ناجائز ہے، اسی طرح  سود کا وصول کرنا بھی ناجائز اور حرام ہے، اور اگر لاعلمی میں وصول کرلیا اور واپس نہ کرسکیں  تو  اسے ثواب کی نیت کے بغیر   غرباء وفقراء میں تقسیم  کردینا ضروری ہے۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144109202202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں