بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک میں اکاؤنٹ کھلوانا اور بینکنگ نظام کی درستگی


سوال

جب تمام بنک میں اکاؤنٹ بنانا صحیح نہیں ہے تو بنوری ٹاؤن کا اکاؤنٹ کیوں بنایا ہے اور اس بینکنگ والے نظام کو کیسے درست کیا جاسکتا ہے ؟

جواب

 مال کی حفاظت کی اگر کوئی معتمد صورت نہ ہو تو مجبوراً بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں حفاظت کی غرض سے مال رکھوانے کی گنجائش ہے، البتہ اگر کوئی متبادل صورت ہو تو پھر بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی رقم رکھوانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ سوال کے دوسرے جزء کے لئے   درج ذیل لنک پر جامعہ کے ماہانہ رسالہ بینات میں شائع ہونے والا تفصیلی مضمون ملاحظہ فرمائیں:

بینکاری سود کے متبادل کا سوال اور اس کی اہمیّت و حقیقت

الأشباه والنظائرمیں ہے:

’’الأولى: الضرورات تبيح المحظورات ... الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها.‘‘

(ص:73، ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں