بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بذریعہ بینک زکاۃ کی ادائیگی


سوال

میرا میزان بینک میں اکاؤنٹ ہے جس میں پیسے ہیں،  جس سے سالانہ زکاۃ کی کٹوتی ہوگی۔ اس کے علاوہ میرے پاس گھر میں 80 ہزار روپے اور ساڑھے چار تولے سونا ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ  بینک والے تو زکاۃ کاٹ دیں گے،  لیکن میرے پاس جو سونا ہے اور 80 ہزار روپے ہیں ،اس کی  زکاۃ کیسے ادا کریں گے اس کا کیا طریقہ ہے ؟

جواب

جواب سے قبل  چندباتیں بطور تمہید ذکر کی جاتی ہیں :

1۔میزان بینک یا  مروجہ   دیگر غیر سودی  بینکوں سے تمویلی معاملات کرنا، سیونگ اکاؤنٹ  وغیرہ کھلوانا جائز نہیں ہے، ملک کے اکثر جید اور مقتدر مفتیانِ کرام  کی رائے یہ ہے کہ  مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،  اور مروجہ غیر سودی بینک اور  روایتی بینک کےبہت سے  معاملات درحقیقت ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینکوں کی طرح ان سے بھی  تمویلی معاملات کرنا جائز نہیں ہے ۔ ضرورت پڑنے پر صرف ایسا اکاؤنٹ کھلوایا جاسکتا ہے جس میں منافع نہ ملتا ہو، مثلاً: کرنٹ اکاؤنٹ یا لاکرز وغیرہ۔لہذا آپ کا میزان بینک میں رقم رکھوا کر نفع لینا جائز نہیں ہے۔

2۔بینک کے ذریعہ زکاۃ کی ادائیگی کے سلسلہ میں کچھ تفصیل ہے اور وہ یہ ہے:

اگر بینک والے کھاتےداروں سے ان کی اجازت سے اصل رقم سے زکاۃ کی رقم کاٹ کر مستحقینِ زکاۃ کو مالکانہ طور پر دے دیتے ہیں تو  زکاۃ ادا ہوجائے گی۔

اگر بینک کھاتے داروں کی اجازت کےبغیر اصل رقم سے زکاۃ ادا کرتے ہیں تو زکاۃ ادا نہیں ہوگی، اس صورت میں کھاتے داروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی زکاۃ خود ادا کریں۔

اگر  بینک والے زکاۃ کی رقم اصل رقم سے نہیں کاٹتے، بلکہ نفع کےنام پر جمع ہونے والی سود کی رقم سے زکاۃ کاٹتے ہیں تو زکاۃ ادا نہیں ہوگی، کیوں کہ حرام رقم سے زکاۃ ادا نہیں ہوتی، ایسی صورت میں کھاتے داروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی زکاۃ خود ادا کریں۔

بہرصورت بہتر یہی ہے کہ  اپنی زکاۃ خود ہی ادا کی جائے،  بینک کی کٹوتی پر اعتماد نہ کیا جائے؛  اس لیے کہ بینک کی طرف سے زکاۃ مستحقین تک پہنچ جانا یقینی نہیں ہے۔

3۔  زکاۃ کی ادائیگی اس تاریخ میں واجب ہوتی ہے جس میں آدمی صاحبِ نصاب ہوا ہو، اور یہ ہر ایک کے لیے یکم رمضان المبارک نہیں ہوتا، بلکہ اگر یقینی طور پر تاریخ معلوم ہو یا غالب گمان کے مطابق متعین کی جاسکتی ہو تو جس تاریخ کو صاحبِ نصاب ہو، ٹھیک ایک سال بعد اسی تاریخ میں ملکیت میں موجود قابلِ زکاۃ اموال پر زکاۃ واجب ہوگی۔

4-  زکات کے سال کا حساب قمری مہینے سے کرنا چاہیے، نہ کہ شمسی تاریخوں سے، اس لیے کہ شمسی سال قمری سال سے تقریباً   گیارہ دن بڑا ہوتا ہے، تاریخ کی تبدیلی سے ملکیت میں موجود مالیت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، نتیجتاً زکات کی مقررہ مقدار میں کمی بیشی کا امکان رہتاہے، جو ذمہ میں باقی رہ گئی تو مؤاخذہ ہوسکتاہے۔

مذکورہ تمہید کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ :اگر بینک میں آپ نے سیونگ اکاؤنٹ کھلوایا ہے تواُسے ختم کردیا جائے ،اور ضرورت کے لیے کسی بھی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہے۔

بینک کی جانب سے  دیاجانے والا نفع چوں کہ حلال نہیں ، نیز  زکاۃ مالِ حلال پر عائد ہوتی ہے ،حرام مال پر نہیں، لہذاآپ کی اصل رقم جو بینک میں رکھی ہے اگر بینک اس رقم سے زکاۃ کاٹے اورمستحقین کو مالک بناکر دے دے تو اس رقم کی زکاۃ ادا ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔ جیساکہ اوپرتمہید میں نمبر (2)کے تحت لکھاجاچکا ہے۔

آپ کی  زکاۃ کا جو دن مقرر ہے (اور اگر پہلے سے مقرر نہیں اور کچھ یاد بھی نہیں کہ صاحبِ نصاب کب بنے تھے، تو  اب اسلامی تاریخ کے اعتبار سے کوئی ایک دن مختص کرلیں)، اس دن آپ اپنی ملکیت میں موجود  نقد رقم، سونا، چاندی  اور مال تجارت (اگر موجود ہو)جس قدر موجود ہو ان کی موجودہ قیمت (یعنی اس دن مارکیٹ میں ان کی جو قیمت بنتی ہو)کاحساب کرلیں۔اور مجموعی مال پر ڈھائی فیصد زکاۃ  ادا کریں گے۔یعنی ایک لاکھ روپے پر ڈھائی ہزار روپے زکاۃ ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201282

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے