بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بینک کو پیسے دے کر اسٹیٹمنٹ بنوانا


سوال

 میں بینک اسٹیٹمنٹ بنانے کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، کیا ہوگا اگر ہم بینک کو کچھ رقم ادا کرتے ہیں اور وہ کچھ رقم صرف ہمارے کھاتوں میں لین دین کو ظاہر کرنے کے  لیے جمع کردیتے ہیں ، اور ہم اس بیان کو باہر لے جاتے ہیں اور کسی بھی سفارتخانے  میں بیان ظاہر کرتے ہیں  جیسے امریکی سفارتخانے، اس  کی اجازت ہے یا نہیں ؟ یہاں صرف تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہتا تھا کہ   ہم اپنی مرضی سے اپنے بینک اسٹیٹمنٹ بنانے کی فیس بینک کو دے رہے  ہیں اور یہ رقم صرف سفارت خانے میں ظاہر کرنے کے  لیے ہے ، ہم اس رقم کو   کسی بھی طرح استعمال نہیں کرسکتے!

جواب

آپ کے سوال کا مقصد اگر یہ ہے کہ بینک کو کچھ رقم    دے کر  اپنے اکاؤنٹ میں زیادہ رقم شو کروانا،   پھر  اپنی اسٹیٹمنٹ  ویزوں وغیرہ کے لیے  مختلف سفارت خانوں میں جمع کروانا تاکہ ان کی ویزہ وغیرہ  کی شرائط پوری کی جاسکیں  اور ویزوں وغیرہ کے حصول میں   آسانی ہو تو  یہ  صورت  دھوکا دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعًا درست نہیں ، البتہ جتنی رقم ڈالی  جائے اگر اتنی ہی ظاہر کی جائے اور بینک  اس سروس  کی مد میں کچھ  فیس  وصول کرے تو شرعًا یہ صورت درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ: سوال کا مقصد کچھ اور ہے وضاحت کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کریں۔


فتوی نمبر : 200089

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں