بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بینک کو سہولیات فراہم کرنے کا حکم


سوال

میرا  ایک کاروبار  ہے جو مجھے دس لاکھ کا نفع ہر مہینے دیتا ہے ، اسی سے میرا گھر چلتا ہے، اس کمپنی کے دو شریک ہیں۔

مختصر تعارف؛ کلائنٹ بینک سے سرمایہ  لیتا ہے  ،اس سرمایہ سےکلائنٹ  جو کچھ  خریداری کرتا  ہے وہ بینک کی ملکیت ہوتی ہے جب تک کہ کلائنٹ سود کے ساتھ وہ سرمایہ  کی رقم بینک کو واپس  نہ لوٹا دے، ہم ایک کمپنی کے طور پر  کلائنٹ کی جانب سے کسی  قسم کی  خیانت سے   بینک  کے اثاثوں کی حفاظت کرتے ہیں اور  کلائنٹ کی ہر  عہدشکنی  کی اطلاع ہم بینک کو دیتے ہیں، ہم ایک سیکورٹی   کمپنی کی طرح کام کرتے ہیں،سامانِ تجارت اس وقت تک کلائنٹ کے سپرد نہیں کیا  جاتا    جب تک  کہ کلائنٹ ایک مخصوص  رقم ادا نہیں کرتا، سامانِ تجارت کلائنٹ کے گودام میں ہی  رکھا جاتا ہے اور ہم ایک سیکورٹی گارڈ  اس کلائنٹ کو مہیا کرتے ہیں، کلائنٹ اس وقت تک سامانِ تجارت کو اپنے استعمال میں نہیں لاسکتا جب تک کہ وہ بینک کا قرضہ  ادانہ  کرے، کیا یہ کاروبار جائز ہے؟

جواب

بینک ایک سودی ادارہ ہے، جہاں سودی لین دین ہوتاہے، جو گناہِ کبیرہ ہے، اور قرآنِ کریم میں اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کے مترادف قرار دیاگیاہے، ایسے سودی ادارےکواپنی سہولیات فراہم کرنا گناہ کے کام میں معاونت ہے جوکہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اورجواجرت بینک ادا کرے گا، يقیناً وہ اپنی سودی آمدنی سے ادا کرے گاجو کہ جائز نہیں۔لہذاکسی بھی بینک کو سیکورٹی یا دیگر سہولیات فراہم کرنا  اور حصول شدہ اجرت کااستعمال میں لانا کراہت سے خالی نہیں ہے۔ سائل حلال اور جائز کاروبار کرنے والوں کو اپنی خدمات فراہم کرے۔

قرآنِ کریم میں باری تعالی کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ."

(سورۃ البقرۃ، اٰیت:278-280)

دوسرے مقام پر باری تعالی کا ارشاد ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ."

(سورۃ المائدۃ:2)

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء".

(الصحيح لمسلم، باب لعن آکل الربا، ومؤکله، النسخة الهندیة، 27/2)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144308102237

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں