بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک کو جگہ کرایہ پر دینا


سوال

میرے پاس ایک پراپرٹی ہے جو کہ کرایہ پر دینے کے لیے ہے، یہ کمرشل جگہ ہے،  کیا  یہ جگہ بینک کو کرایہ پر دینا جائز ہے؟  اگر یہ جگہ کسی اور ادارے کو دوں تو وہ بینک کے بنسبت کم کرایہ دیتے ہیں،  دوسرا یہ ہے کہ وہ کتنے عرصہ کے لیے کرایہ پر رہیں گے اس کا کوئی پتہ نہیں ہوتا، جب بینک ایک طویل عرصہ کے لیے معاہدہ کرتا ہے اور کرایہ بھی اچھا دیتا ہے، تو کیا بینک کو یہ جگہ کرایہ پر دینا جائز ہوگا؟

جواب

بینک  کا مدار اور اس کی بنیاد سودی نظام پر قائم ہے،سود کا لین دین گناہ کبیرہ ہے، قرآن وحدیث میں اس پر بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،   قرآنِ کریم میں اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ جنگ کے متردف قرار دیاگیاہے  اور   سودی معاملات   کرنے والے اور اس میں تعاون کرنے والوں  پر  رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، اور بینک کو جگہ کرایہ پر دینا سودی معاملات میں معاونت کرنا ہے،  لہذا کسی بھی قسم کی بینک کو  اپنی جائیداد کرایہ پر دینا  جائز  نہیں ہے۔

بینک کے علاوہ کسی حلال کاروبار کرنے والے ادارے یا فرد کو جگہ کرایہ پر دے دیں، اس لیے کہ  حرام چاہے جتنا بھی زیادہ نظر آئے، بالآخر اس کی انتہا ہلاکت، بربادی، بے برکتی اور  اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے،  اس کے بالمقابل حلال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ساتھ برکت ہی برکت ہے۔ لہذا قلیل حلال پر قناعت کرلیں  اور کثیر حرام کی طلب میں نہ پڑیں۔

قرآن کریم میں ہے :

﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ [المائدة: 2]

ترجمہ: "اور گناہ  اور زیادتی میں  ایک  دوسرے  کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ  اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والے ہیں۔" (از بیان القرآن)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى: (وتعاونوا على البر والتقوى) يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى: (ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى."

(سورة المائدة،الآية:3 ،296/3 ،ط:دار إحياء التراث العربي)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله تعالى: [وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان] يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم."

(سورة المائدة،الآية:2 ،10/3 ،ط: دار الكتب العلمية)

جواہر الفقہ میں ہے:

"ثم السبب ان كان سببا محركا وداعيا إلى المعصية فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصبة بنص القران كقوله تعالى: " لاتسيوا الذين يدعون من دون الله "، وقوله تعالى " فلا يخضعن بالقول "، وقوله تعالى " لا تبرجن " الآية، وان لم يكن محرکا و داعيا، بل موصلا محضا، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في اقامة المعصية به إلى احداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من اهل الفتنة وبيع العصير ممن يتخذه خمرا وبيع الأمرد من يعصي به وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر و يتخذها كنيسة أو بيت نار و أمثالها، فكله مكروه تحريما بشرط ان يعلم به البائع والأجر من دون تصريح به باللسان، فانه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم كان داخلا في الإعانة المحرمة،وإن كان سببا بعيدا بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه كبيع الحديد من اهل الفتنة وامثالها فتكره تنزيها."

(تفصيل الكلام في مسئلة الإعانة على الحرام، ج:2، ص:439 الى 453، ط: مكتبة دارالعلوم)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144509100341

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں