بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک کے سود سے غریبوں کی مدد کرنا اور مساجد اور مدارس کے بیت الخلاء تعمیر کروانا


سوال

 معاملہ یہ ہے کہ روایتی بینک کے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم ہے جس پر بینک نے کچھ سود فراہم کیا تھا،  میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اللہ سے معافی مانگنے کے ساتھ بغیر کسی ذاتی فائدے کے اس سود کو عطیہ کرنے کے لیے کون سے طریقے دست یاب ہیں۔ کیا ہم اس سود کے فنڈز کو درج ذیل کے لیے عطیہ کرسکتے ہیں:

1- راشن کے لیے کسی بھی غریب کی مدد کریں۔

2- کسی غریب کی دوا یا علاج کے لیے مدد کریں۔

3- چھوٹے کاروبار کے لیے کسی غریب کی مدد کریں۔

4- ناداروں کی مدد کریں اور شادیوں میں مدد کریں۔

5- روزانہ اخراجات جیسے کسی بھی غریب کی مدد کرنا جیسے اسکول کی فیس وغیرہ ویل چیئر یا سوئنگ مشین خرید کر کسی بھی غریب کی مدد کریں۔

6- میں نے یہ بھی سنا ہے کہ مساجد اور مدرسے میں بیت الخلا اور مکروہ مقامات کی تعمیر میں معاونت کے لیے  سود کے فنڈز استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ کیا یہ سچ ہے؟ 

جواب

بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لیے بینک کے ایسے اکاؤنٹ کو فی الفور بند کروانا ضروری ہے۔اور جس طرح سودی رقم کا استعمال کرنا حرام ہے اسی طرح سودی رقم کو وصول کرنا بھی حرام ہے، نیز بینک کی طرف سے اکاؤنٹ میں یہ رقم آجانے کے باوجود آدمی اس سودی رقم کا مالک نہیں بنتا ہے ، چناں چہ کسی بھی صورت اس سودی رقم کا اکاؤنٹ سے نکلوانا اور وصول کرنا ہی جائز نہیں ہے۔

البتہ اگر کسی شخص کو مسئلہ معلوم نہ تھا اور اس نے یہ رقم وصول کر لی ہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ پہلے تو وہ یہ کوشش کرے کے جہاں سے یہ سودی رقم لی ہے اسی کو واپس کردے، لیکن اگر باوجود کوشش کے اسی شخص یا ادارے کو واپس کرنا ممکن نہ ہو تو پھر کسی ضرورت مند مستحقِ زکاۃ غریب شخص کو یہ رقم ثواب کی نیت کے بغیر دے دے۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے صورتِ مسئولہ میں (یعنی اگر آپ رقم وصول کرچکے ہیں اور اس کی واپسی ممکن نہیں ہے تو) مذکورہ رقم یا اس سے کوئی چیز لے کر  کسی بھی غریب کو  ثواب کی نیت کے بغیر  مالک بناکر  دے دی جائے تو آپ کا ذمہ سے یہ چیز ہٹ جائے گی، لیکن چوں کہ اس رقم میں اصل مقصود صدقہ نہیں، بلکہ اپنا ذمہ فارغ کرنا ہے، اس لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ مختلف چیزیں خریدنے یا روزانہ یا ماہانہ بنیادوں پر تعاون کرنے کے بجائے جلد از جلد اپنے اوپر اس حرام رقم کا بوجھ اتاردیں، تاکہ اللہ کے یہاں باز پرس سے بچ سکیں۔

باقی جن چیزوں میں رقم خرچ کرنے کی صورت میں  مالک بنانا نہیں پایا جاتا یا جن جگہوں پر زکوٰۃ کی رقم کی خرچ نہیں کی جاسکتی وہاں اس رقم کو لگانا جائز نہیں ہے، لہذا اس رقم سے مساجد یا مدارس وغیرہ کے بیت الخلا تعمیر کرانا درست نہیں ہے۔

نیز یہ ملحوظ رہے کہ اس نیت سے سود  اور حرام رقم کمانا  کہ اس کو خود استعمال نہیں کریں گے، بلکہ غریبوں  کا تعاون اور مدد کریں  گے، شرعاً جائز نہیں ہے،  ایسے لوگ  حرام  کا ارتکاب کرکے خود تو گناہ گارہوتے ہیں اورغریبوں کادنیوی  فائدہ کرتے ہیں، یہ بڑی نادانی ہے کہ انسان اپنا دینی نقصان کرکے دوسروں کابھلاکرے اور دوسروں کے دنیوی فائدے کے لیے اپنی آخرت بربادکرے۔

حرام  رقم غلطی سے ملکیت میں آگئی ہوتو اسے صدقہ کرنا لازم ہے، مگر اس کایہ مطلب نہیں کہ صدقہ کی نیت سے انسان حرام کماتا رہے،مشرکینِ مکہ سخت  قحط کے زمانے میں جواکھیلتے تھے اورجیتی ہوئی اشیاءخود استعمال میں نہیں لاتے تھے، بلکہ فقیروں پر صدقہ کردیا کرتے تھے، مگر اس کے باوجود ان کاعمل ناجائز اورحرام ہونے کی وجہ سے اس کی مذمت کی گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ صدقہ اور لوگوں کی فلاح وبہبود کی نیت سےحرام مال کمانے کی اجازت نہیں،  جیساکہ توبہ کی نیت سے گناہ کی اجازت نہیں  ہے اوراس وجہ سے بدپرہیزی کرنا معقول نہیں کہ دواموجود ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

''والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه''. (مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، ٥/ ٥٥،ط: سعيد)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200404

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں