بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

بینک کے قرض میں سود متعین نہیں کیا گیا ہو تو قرض کا حکم


سوال

میں فرانس میں رہتا ہوں اور یہاں پر چھوٹی سی دوکان چلاتا ہوں، گزشتہ دنوں لاک ڈاون کی وجہ سے 5 مہینے دوکان بند رہی، دو مہینے کا کرایہ بھی نہیں دے سکا،  اب گورنمٹ نے کہا ہے کہ آپ اپنے بنک سے بات کرو،  اگر آپ کا کاروبار لاک ڈاون کی وجہ سے متاثر ہوا ہے تو بنک آپ کے کاروبار کے  لیے آپ کو قرض پر رقم دے گی، اس سال بنک ہم سے رقم کا مطالبہ نہیں کرے گا،  پر ایک سال کے بعد ہم سے رقم واپسی کا مطالبہ کرے گا، ابھی اس پر سود تعین نہیں کیا گیا، اس میں فرانس گورنمنٹ بنک سے کہہ رہی ہے، اگر کسی وجہ سے ہمارا کاروبار نہ چل سکا تو فرانس گورنمنٹ ذمہ دار ہو گی، کیا اس صورت میں میں بنک سے قرض لے سکتا ہوں ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ الفاظ  "اس پر سود تعین نہیں کیا گیا" سے یہ مراد ہے کہ یہ طے کیا گیا ہے کہ سود لیا ہی نہیں جائے گا  (یعنی یہ قرض غیر سودی قرض ہے)،  پھر یہ قرض لینا جائز ہوگا،  لیکن اگر یہ مراد ہے کہ شرح سود طے نہیں کی گئی تو  پھر یہ قرض لینا جائز نہیں ہے، کیوں کہ شرح سود کم ہو تب بھی وہ سود ہی ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 21):

"لأن الربا هو الفضل الخالي عن العوض."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200699

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں