بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک کا اسکول ٹیچر کے لیے سیونگ اکاؤنٹ بنانے کا حکم


سوال

میں ایک گورنمنٹ ٹیچر ہوں ،پچھلے سال ہم نے گورنمنٹ کے حکم سے  NBP میں اکاؤنٹ بنوایا ،میں نے کرنٹ اکاؤنٹ سلیکٹ کرکے دیا تھا  بینک والوں کو ،لیکن انہوں نے پرافٹ اینڈ لوس سسٹم (pls)اکاؤنٹ بنا دیا تمام ٹیچرز کا ،اب تک تو صحیح تھا ،لیکن اب جو  پرافٹ آیا ہے  اسے میں استعمال کرسکتا ہوں یا نہیں ؟ یہی اکاؤنٹ ہم نے بہت استعمال کیا ہے اور اسی میں سیلری آتی ہے، ہر ٹریننگ میں  ہم نے یہی دیا ہے ،اب  اس کو استعمال کرنا ضروری ہوگیا ہے ،برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں ؟

جواب

واضح رہے کہ بینک  ایک سودی ادارہ ہے جس طرح سود لینا اور استعمال کرنا ناجائز ہے،  اپنی رضامندی اور اختیار سے سود کا معاہدہ کرنا بھی ناجائز ہے۔  لہذا کسی بھی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے میں چوں کہ سودی معاہدہ ہوتا ہےاور اس میں جمع شدہ رقم پر بینک کی طرف سے نفع کے نام سے سود ملتا ہے جو کہ قرض پر نفع ملنے کی وجہ سے حرام ہے ؛ لہذا سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا ہی جائز نہیں ہے، شدید مجبوری ہو تو کرنٹ اکاونٹ کھلوانے کی شرعاً اجازت ہےشدید مجبوری مثلاً:رقم کی حفاظت مقصد ہو یا تنخواہ کے لیے اکاونٹ کھلوانے کی مجبوری ہو ؛ اس لیے کہ کرنٹ اکاونٹ  ہولڈر ، بینک کے ساتھ کوئی سودی معاہدہ نہیں کرتا، اور اسے یہ اختیار ہوتاہے کہ وہ جب چاہے اور جتنی چاہے اپنی رقم بینک سے نکلوالے گا، اور بینک اس کا پابند ہوتا ہے کہ اس کے مطالبہ پر رقم ادا کرے، اور اکاؤنٹ ہولڈر اس بات کا پابند نہیں ہوتا کہ وہ رقم نکلوانے سے پہلے بینک کو پیشگی اطلاع دے، اور اس اکاؤنٹ پر بینک کوئی نفع یا سود بھی نہیں دیتا، بلکہ اکاؤنٹ ہولڈر حفاظت وغیرہ  کی غرض سے اس اکاؤنٹ میں رقم رکھواتے ہیں۔ نیز  بینک اس اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم کا ایک حصہ اپنے پاس محفوظ بھی رکھتے ہیں؛ تاکہ اکاؤنٹ ہولڈر جب بھی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرے  تو اس کی ادائیگی کی جاسکے، اس ساری صورتِ حال میں اکاؤنٹ ہولڈر کے لیے اس کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے کی گنجائش ہے۔ اور جو بینک اس سے سودی کام کرے گا اس کا گناہ متعلقہ ذمہ داران کو ہوگا، نہ کہ اکاؤنٹ ہولڈر کو۔اور  اگر لاعلمی میں سیونگ اکاؤنٹ کھول لیا ہو یا اپنے اختیار کے بغیر بینک  نے کھول دیا ہو جیسا کہ آج کل ملازمین کو تنخواہ بینک کے ذریعے ملتی ہے تو اگر اس میں سیونگ اکاونٹ کھولا گیا تو اولاً اسے کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کردیا جائے اور  اصل رقم پر اضافہ وصول نہ کیا جائے۔ اور اگر فی الحال کرنٹ اکاؤنٹ میں تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو سودی/ منافع کی رقم وصول ہی نہ کی جائے اور اگر وصول کرلیا ہے تو ثواب کی نیت کے بغیر فقراء پر صدقہ کرلیا جائے ۔

درر الحکام میں ہے :

"لأن الثابت بالضرورة ‌يتقدر ‌بقدرها".

(باب الاعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100618

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں