بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک کے بونڈز اور منافع کا حکم


سوال

جناب میرا سوال یہ ہے کہ بینک کے بونڈزلینا جائزہے یا نہیں اورجوبونڈز کھل جاتے ہیں تو ان کی انعامی رقم حلال ہے کہ نہیں آیاوہ حرام ہے ؟

جواب

پرائزبونڈخواہ بینک کے جاری کردہ ہوں یا کسی اورسرکاری یا غیرسرکاری ادارہ کے یہ درحقیقت سود اورجوئے کی ایسی مرکب شکلیں ہیں جواسلامی شریعت کی رو سے قطعاً ناجائزہیں۔ ان پرائزبونڈزمیں سود تواس لیے ہے کہ انعامی بونڈز کی رقم بینک یا کسی بھی متعلقہ ادارہ کے ذمہ قرض ہے اور انعامی بونڈز رکھنے والوں کوبصورت انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض پر ملتا ہے جو کہ جملہ انعامی بونڈز رکھنے والوں سے مشروط ہےاورقرض پر ہرقسم کا مشروط نفع شریعت کی روسے سود ہے۔ اوراگر اس نفع کو صرف انعام بھی تصور کرلیا جائے توبھی اس کا حصول جائز نہیں۔ حضوراکرم ﷺ نے قرض دے کر ہدیہ تک لینے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح پرائزبونڈز کے انعام میں بھی جوا شامل ہے بایں معنیٰ کہ پرائزبونڈزکے حصہ داران زائد رقم وصول کرنے کی غرض سے رقم جمع کراتے ہیں لیکن یہ زائد رقم قرعہ اندازی اور اس میں نام آنے کے ساتھ مشروط ہے، اسلیے غیریقینی طورپر تردد میں رہتے ہیں کہ نام آئے گا یا نہیں کیونکہ زائد رقم کے ملنے اورنہ ملنے کے امکانات برابرہیں اور اسی کو شرعی اصطلاح میں قمارجوا کہتے ہیں۔ کارباری نقطہ نظر سے جس کاروبار میں نفع نہ ہووہ نقصان ہے توجن انعامی بونڈز رکھنے والوں کے نام نہیں آتے وہ گویا نقصان میں ہیں اور نفع نقصان کے درمیان معلق رہنے والامعاملہ شرعاً جواکہلاتاہے کہ یا تواصل رقم سے زائد رقم مل جائے گی اوریا اصل تومحفوظ رہےگی لیکن جس نفع کی لالچ میں بونڈزخریدے تھے کم ازکم وہ نفع حاصل نہیں ہوا۔ اسلیے پرائز بونڈز کی خریدوفروخت کرنا اوراس سے ملنے والاانعام یا نفع ازروئے شریعت ناجائز اورحرام ہے۔


فتوی نمبر : 143101200234

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں