بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

بینک اکاؤنٹ میں آئی ہوئی ایسی رقم کا حکم جس کا بھیجنے والا معلوم نہ ہو


سوال

میرے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم آئی ہے،  مجھے علم نہیں کہ کس نے بھیجی ہے، میں نے بینک سے رابطہ کیا، وہ رقم میری نہیں ہے، لیکن وہ کہتے کہ ہم اس معاملہ میں کچھ نہیں کر سکتے۔ کیا وہ رقم میں استعمال کر سکتا ہوں؟ اگر نہیں تو مناسب طریقہ بتا دیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے اکاؤنٹ میں کوئی رقم آئی ہے اور آپ کو اس رقم کے بھیجنے والے کا کوئی علم نہیں ہے تو جب تک آپ کو اس رقم کے بھیجنے والے کے بارے میں معلوم نہ ہوجائے کہ اس نے یہ رقم باقاعدہ ارادہ کر کے آپ کو ہی بھیجی ہے اس وقت تک آپ کے لیے اس رقم کا استعمال کرنا درست نہیں ہے، باقی آپ بینک انتظامیہ کے تعاون سے (مثلاً اکاؤنٹ نمبر، اور برانچ کوڈ وغیرہ کے ذریعے) یہ معلوم کرواسکتے ہیں کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ بھیجنے والے کے بارے میں معلومات حاصل ہونے پر اس سے رابطہ کر کے پوچھ لینا چاہیے کہ یہ رقم اس نے غلطی سے آپ کے اکاؤنٹ میں بھجوادی ہے یا آپ کو بھیجنا ہی مقصود تھا؟ اس کی روشنی میں آپ اپنے لیے فیصلہ کرلیجیے گا۔

اگر واقعتًا پوری کوشش کے باوجود معلوم نہ ہوسکے تو  اس وقت مسئلہ دوبارہ معلوم کرلیجیے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201483

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں