بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک میں رقم جمع کروانا


سوال

کیا بینک میں پیسے جمع کروانا سود ہے ؟

جواب

کسی بھی بینک میں ضرورت کے وقت کرنٹ اکاؤنٹ کھلواکر اس میں رقم رکھوانا جائز ہے۔ البتہ سیونگ  اکاؤنٹ یا کسی اور نام سے نفع کے حصول کے لیے کسی بھی بینک میں اکاؤنٹ کھلواکر رقم رکھ کر اس پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ سود ہے ، اور سود کا لینا حرام ہے ۔ 

اگر سوال سے مقصود اس کے علاوہ ہوتو وضاحت کے بعد دوبارہ جواب طلب کرلیں۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال هم سواء".

(صحیح مسلم، کتاب المساقات، ج:3، ص:1219، ط: دار إحیاء التراث العربی)

ترجمہ:" حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرمﷺ نے سود کھانے والے، اور کھلانے والے اور (سودکاحساب) لکھنے والے اور سود پر گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے،اور فرمایا: کہ وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔"

الأشباه والنظائرمیں ہے:

’’الأولى: الضرورات تبيح المحظورات ... الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها.‘‘

(ص:73، ط:دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502102314

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں