بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بانجھ اور دودھ نہ دینے والے جانور کی قربانی کا حکم


سوال

مادہ جانور اگر بانجھ ہو یا پھر وہ دودھ نہ دیتاہو تو ایسے جانور کی قربانی کرنا کیساہے؟

جواب

واضح رہے کہ جانور کا بانجھ ہونا، یا بلا کسی وجہ  کے دودھ نہ دینا(جب کہ تھن سالم ہو) قربانی کے لیے عیب نہیں، ایسے جانور  کی قربانی کرنا شرعًا جائز ہے۔لہذاصورتِ  مسئولہ میں اگر مادہ جانور بانجھ ہو یا اس کا دودھ بلا کسی وجہ  کے بند ہوگیاہو(جب کہ تھن سالم ہو)  تو اس کا  قربانی کرنا شرعًا جائز ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع، ...والعاجزة عن الولادة لكبر سنها، والتي بها كي، والتي لاينزل لها لبن من غير علة."

[كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط: مكتبه ماجدية.]

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311101291

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں