بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بنی اسرائیل کے ایک کناہ گار شخص کی توبہ کے واقعہ کے سند کی تحقیق، جس کی گناہ کی وجہ سے بارش رکی ہوئی تھی


سوال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک مرتبہ سخت قحط پڑا ، لوگ پریشان اور بے حال ہو کر سید نا موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے : حضرت ! دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت باران رحمت نازل فرمادے، حضرت موسیٰ علیہ السلام دعا کے لیے ستر ہزار بنی اسرائیل کے ہمراہ جنگل میں نکل گئے اور بارش کی دعا فرمائی: " الہی ! معصوم بچوں، نیک بوڑھوں اور بے زبان جانوروں کے طفیل ہم پر رحم فرما کر باران رحمت نازل فرما۔ ہر نبی مستجاب الدعوات ہوتا ہے، اس اعتبار سے دعا کے بعد بجائے اُمید بندھنے کے آسمان پہلے سے زیادہ صاف اور آفتاب پہلے سے زیادہ گرم ہو گیا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بہت حیرت ہوئی ، پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر عرض کیا: یا اللہ ! اگر تیری بارگاہ میں میری وجاہت ختم ہوگئی ہے تو نبی آخر الزماں جناب محمد رسول اللہ صلہ اسلام کے واسطہ سے التجا کرتا ہوں کہ تو اپنی رحمت متوجه فرما کر بارش نازل فرما۔ اسی وقت وحی آئی : " اے موسیٰ! تمها را  مرتبہ ہمارے یہاں بالکل نہیں گھٹا، تم اب بھی ہمارے نزدیک مرتبے والے ہو ، مگر بات یہ ہے کہ تمھاری قوم میں ایک ہمارا نا فرمان بندہ ہے، جو چالیس سال سے ہمیں ناراض کرتا رہا ہے، جب تک وہ موجود ہے ہم ہرگز ایک قطره بارش نہیں برسائیں گے، آپ اعلان کریں، تا کہ مجمع سے وہ نافرمان چلا جائے جس کے سبب بارش ر کی ہوئی ہے۔“ حکم پاکر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلان فرمایا، تو وہ نافرمان بندہ اپنی جگہ کھڑا رہا، چاروں طرف نظر ڈالی ، جب اس کے علاوہ اور کوئی مجمع سے نکلتا نظر نہ آیا تو اُس نے سوچا کہ اگر باہر نکلتا ہوں تو سب کے سامنے رُسوائی ہوتی ہے، اور اگر نہیں نکلتا تو میرے گناہوں کے سبب بارش نہ ہونے سے سب کے لیے پریشانی ہوتی ہے، سوچ کر دل میں تو بہ کا فیصلہ کر لیا، پھر چہرے پر پردہ ڈالا اور غفار الذنوب، ستار العیوب سے معافی طلب کی: اے میرے رب کریم! یہ تیرا بندہ، سراپا گندہ، اپنے گناہوں پر نادم وشرمندہ اور طالب تو یہ ہے:  إِلهِي وَسَيِّدِي عَصَيْتُكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَأَمْهَلْتَنِي، وَقَدْ أَتَيْتُكَ طَائِعًا فَاقْبَلْنِي.  یا اللہ ! میں نے چالیس سال تک تیری نافرمانی کی مگر تو مہلت دیتا رہا ، اب تیری طرف توبہ کے ارادے سے متوجہ ہوا ہوں ، پس قبول فرما محروم نہ فرما، مایوس نہ فرما، بس پھر کیا تھا، روایت میں آتا ہے کہ ابھی تو دعا اور تو بہ ختم بھی نہیں ہوئی کہ آسمان سے موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بڑا تعجب ہوا ؟ عرض کیا : " اے اللہ! ابھی تو وہ بندہ مجمع سے باہر نکالا بھی نہیں، پھر یہ بارش کیسے برسی ؟ ارشاد ہوا : " موسیٰ ! پہلے جس کی وجہ سے بارش ر کی تھی اب اُسی کی وجہ سے برسائی ہے، اس لیے کہ اس نے تو بہ کر کے ہم سے صلح کر لی ہے، ہمیں راضی اور خوش کر لیا۔

(کتاب التوابین از ابن قدامہ المقدسی ، ص: ۱۱۵) 

اس واقعہ کی سندی حیثیت کیا ہے کیا یہ واقعہ ہے مستند ہے ؟ اس واقعہ کو بیان کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

 قرآن وحدیث میں اس  واقعہ کا کوئی ذکر نہیں، کتاب التوابین لابن قدامہ میں بھی یہ واقعہ  بغیر سند کے مذکور ہے،  دیگر مظان میں  بھی تلاش کے باوجود اس کی کوئی سند ہمیں نہیں ملی،اور جو واقعہ گزشتہ امتوں سے متعلق ہو، اور  اس کا ذکر قرآن وحدیث میں نہ ہو، اس کے متعلق اصول یہ ہے کہ: اگر ان میں کوئی ایسی بات ہو جس کی تصدیق ہمیں قرآن و حدیث سے ملتی ہو تو ہم ایسی روایات کی تصدیق کریں گے اور ان روایات کا بیان کرنا جائز بھی ہوگا، اور جن میں ایسی باتیں ہوں جس کی تصدیق تو ہمیں قرآن و حدیث میں نہ ملتی ہو، لیکن وہ قرآن وحدیث (یعنی شریعت) کے کسی مسلمہ اصول سے ٹکراتی بھی نہ ہوں تو ایسی روایات کا حکم یہ ہے کہ ہم نہ تو ان روایات کی تصدیق کریں گے اور نہ ہی تکذیب کریں گے، البتہ ان روایات کو بیان کرنے کی گنجائش ہے، اور جن روایات میں ایسی باتیں ہوں جو قرآن وحدیث کے مخالف ہوں تو  ہم ان کی تکذیب کریں گے، اور ایسی روایات کو بیان کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔لہذا مذکورہ واقعہ میں چونکہ  کوئی بات شریعت کے مسلمہ اصولوں کے خلاف نہیں، اس لئے اس کو بیان کرنا جائز ہے۔

"ورُوي أنه لَـحِقَ بني إسرائيل قحطٌ على عهد موسى عليه السلام، فاجتمع الناس إليه، فقالوا: يا كليم الله، ادع لنا ربك أن يسقينا الغيث، فقام معهم، وخرجوا إلى الصحراء، وهم سبعون ألفا أو يزيدون، فقال موسى عليه السلام: إلهي، اسقِنا غيثك، وانشر علينا رحمتك، وارحمنا بالأطفال الرُضّع، والبهائم الرُتّع، والمشايخ الرُكّع، فما زادت السماء إلا تقشعًا، والشمس إلا حرارة، فقال موسى: إلهي، إن كان قد خَلِقَ جاهي عندك، فبجاه النبي الأمي محمد صلى الله عليه وسلم الذي تبعثه في آخر الزمان، فأوحى الله إليه ما خلِقَ جاهك عندي، وإنك عندي وجيه، ولكن فيكم عبد يبارزني منذ أربعين سنة بالمعاصي، فناد في الناس حتى يخرج من بين أظهركم، فبه منعتكم، فقال موسى: إلهي وسيدي، أنا عبد ضعيف، وصوتي ضعيف، فأين يبلغ، وهم سبعون ألفا أو يزيدون؟! فأوحى الله إليه منك النداء، ومني البلاغ، فقام مناديا، وقال: يا أيها العبد العاصي الذي يبارز الله منذ أربعين سنة، اخرج من بين أظهرنا، فبك منعنا المطر، فقام العبد العاصي، فنظر ذات اليمين وذات الشمال، فلم ير أحدا خرج، فعلم أنه المطلوب، فقال في نفسه: إن أنا خرجت من بين هذا الخلق افتُضحِتُ على رؤوس بني إسرائيل، وإن قعدت معهم مُنعوا لأجلي، فأدخل رأسه في ثيابه نادمًا على فعاله، وقال: إلهي وسيدي، عصيتك أربعين سنة وأمهلتني، وقد أتيتك طائعا فاقبلني، فلم يستتم الكلام حتى ارتفعت سحابة بيضاء، فأمطرت كأفواه القِرب، فقال موسى: إلهي وسيدي، بماذا سقيتنا، وما خرج من بين أظهرنا أحد؟! فقال: يا موسى، سقيتكم بالذي به منعتكم، فقال موسى: إلهي، أرني هذا العبد  الطائع، فقال: يا موسى، إني لم أفضحه، وهو يعصيني، أأفضحه وهو يطيعني يا موسى؟!، إني أبغض النمامين عليه، أفأكون نماما.؟!".

(كتاب التوابين لابن القدمة: توبة العبد العاصي (ص:80، 81، 82)، ط. دار الكتب العلمية بيروت، 1407)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"ولكن هذه الأحاديث الإسرائيلية تذكر للاستشهاد لا للاعتضاد؛ فإنها على ثلاثة أقسام: أحدها ما علمنا صحته مما بأيدينا مما يشهد له بالصدق فذاك صحيح، والثاني ما علمنا كذبه بما عندنا مما يخالفه، والثالث ما هو مسكوت عنه، لا من هذا القبيل ولا من هذا القبيل، فلا نؤمن به، ولا نكذبه، ويجوز حكايته؛ لما تقدم".

(تفسير ابن كثير: مقدمة المؤلف (1/ 10)، ط.  دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة  الأولى: 1419 هـ)

عمدۃ القاری میں ہے:

"قوله: (وحدثوا عن بني إسرائيل) يعني: مما وقع لهم من الأمور العجيبة والغريبة......وقال مالك: المراد جواز التحديث عنهم بما كان من أمر حسن، وأما ما علم كذبه فلا. وقيل: المعنى حدثوا عنهم مثل ما ورد في القرآن والحديث الصحيح، وقيل: المراد جواز التحدث عنهم بأي صورة وقعت من انقطاع أو بلاغ لتعذر الإتصال في التحديث عنهم، بخلاف الأحكام الإسلامية، فإن الأصل في التحديث بها الاتصال، ولا يتعذر ذلك لقرب العهد".

(عمدة القاري شرح صحيح البخاري: باب ما ذكر عن بني إسرائيل (16/ 45)، ط. دار احياء التراث العربي بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506100809

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں