بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بندوق کی گولی سے شکار کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص بندوق کی گولی سے شکار کرے اور گولی چلاتے وقت تکبیر بھی پڑے تو مارا ہوا شکار حلال ہے یا حرام؟ گولی کو حلت صید میں تیر کا حکم حاصل ہے یا نہـیں؟ مفتی ابراھیم صاحب افریقا والوں نے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے۔ Title: Will hunting deer Question: Assalam Alaikum Does a person have to recite Bismillah Allahu Akbar before shooting a deer Answer: In the Name of Allah the Most Gracious the Most Merciful. As-salāmu ‘alaykumwa-rahmatullāhiwa-barakātuh. A person who is hunting deer is required to verbally recite at least ‘Bismillah’ before firing each bullet. iii And Allah Ta’āla Knows Best Saanwal ibn Muhammad Student DarulIftaa UK Checked and Approved by Mufti Ebrahim Desai Saheb________________________________________ iوَإِذَا رَمَى الرَّجُلُ سَهْمًا إلَى صَيْدٍ فَسَمَّى اللَّهَ تَعَالَى عِنْدَ الرَّمْيِ أُكِلَ مَا اصَابَهُ إذَا جَرَحَهُ السَّهْمُ فَمَاتَ وَإِنْ أَدْرَكَهُ حَيًّا ذَكَّاهُ وَإِنْ تَرَكَ تَذْكِيَتَهُ حَتَّى مَاتَ لَمْ يُؤْكَلْ القدوري، ص٦٤١، ادارة القرآن ii- والشرط في التسمية هو الذكر الخالص عن ضوب الدعاء وغيره فلا يحل بقوله اللهم اغفر لي لأنه دعاء وسؤال بخلاف الحمد لله أو سبحان الله مريدا به التسمية فإنه يحل - والمستحب أن يقول بسم الله الله أكبر بلا واو وكره بها الدرالمختار، ص٦٤١، دار الكتب العلمية Fatwa: 23401 Date:27112012 Title: Is it necessary to recite Bismillah Allahu Akbar when shooting a deer for it to be Halal Question: While killing a deer does a person have to recite Bismillah Allahuakbar before shooting for it to be halal Answer: In the Name of Allah the Most Gracious the Most Merciful. As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh. It is necessary to recite Bismillah Allahu Akbar before shooting a hunted animal for example a deer for the meat to be Halal.1 And Allah Ta’āla Knows Best Saeed Ahmed Golaub Jamaica Student Darul Iftaa Checked and Approved Mufti Ebrahim Desai daruliftaa.net ________________________________________ 1: كتاب الصيد الصيد: الاصطياد، ويطلق على ما يصاد، والفعل مباح لغير المحرم في غير الحرم لقوله تعالى: وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا المائدة:2 وقوله عز وجل وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا المائدة:96 ولقوله عليه الصلاة والسلام لعدي بن حاتم الطائي رضي الله عنه: إذا أرسلت كلبك المعلم وذكرت اسم الله عليه فكل، وإن أكل منه فلا تأكل؛ لأنه إنما أمسك على نفسه، وإن شارك كلبك كلب آخر فلا تأكل فإنك إنما سميت على كلبك ولم تسم على كلب غيرك وعلى إباحته انعقد الإجماع ولأنه نوع اكتساب وانتفاع بما هو مخلوق لذلك، وفيه استبقاء المكلف وتمكينه من إقامة التكاليف فكان مباحا بمنزلة الاحتطاب ثم جملة ما يحويه الكتاب فصلان: أحدهما في الصيد بالجوارح والثاني في الاصطياد بالرمي. الهداية في شرح بداية المبتدي 4 401

جواب

بندوق کی گولی اور تیر کا حکم الگ الگ ہے۔ بندوق سے شکار کرتے وقت اگر تسمیہ و تکبیر پڑھی جائے اور اس سے شکار کیا ہوا جانور ہلاک ہوجائے، تو اس کا کھانا حلال نہیں۔ البتہ اگر گولی ایسی ہے کہ اس کی نوک کو تیر کی مانند تیز کیا گیا ہو اور وہ گولی لمبائی میں بھی تیر کی طرح ہو پھر وہ گولی تیر کی طرح جانور کو زخمی کرے اور جانور مرجائے تو وہ حلال ہوگا۔ بہرصورت اگر گولی لگنے کے بعد جانور کو زندہ حالت میں پایا تو اسے شرعی طریقہ پر ذبح کرنا ضروری ہوگا ورنہ جانور حلال نہیں ہوگا۔ قال قاضي خان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح؛ لأنه لا يخرق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حدده وطوله كالسهم وأمكن أن يرمي به؛ فإن كان كذلك وخرقه بحده حل أكله رد المحتار، کتاب الصید، 6471، ط:ایچ ایم سعید کراچی


فتوی نمبر : 143407200018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے