بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گاڑی لینے کے لیے بینک سے لون لینے کا حکم


سوال

میں اس وقت سعودی عرب میں ہوں کام نہیں ہے بنک سے گاڑی قسطوں میں مل سکتی ہے پر بہت مہنگی ہے اور اس وقت کوئی پیسے نہیں ہیں اور بینک سے پیسے مل سکتے ہیں مناسب اور مجبوری یہ ہے اضافی پیسے واپس کرنے ہیں اور اس پیسے سے گاڑی لینے کا ارادہ ہے اور اس گاڑی سے پیسے کما کر واپس کرنے ہیں مجبوری ہے قرض کوئی نہیں دے رہا پاکستان میں زمین اور جائیداد ہے اور اگر فروخت کرتا ہوں وہ واپس نہیں ملے گا۔

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے، اور بینک  سے   ملنے والا قرض سراسر سود پر مشتمل ہوتا ہے، اور بینک سے قرض لینا سودی معاملہ ہے،  اور سودی قرض لینا جائز نہیں  ؛ اس لیے  شدید مجبوری کی بغیر بینک سے قرض  لینا شرعًا جائز نہیں ہوگا۔

 صورتِ مسئولہ میں گاڑی کا لینا کوئی ایسی شدید مجبوری نہیں ہے جس کے لیے بینک سے سودی قرض لیا جائے، کسی  رشتہ دار  سے قرض لیں، اگر نہ ملے تو گاڑی ہی نہ لیں، یا جائز طریقہ سے قسطوں پر ہی لے لیں، بصورت دیگر  کوئی جائز حلال روزگار تلاش کریں۔ 

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"{وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا ، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا } ."[الطلاق: 2، 3]

ترجمہ:"  اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سےوہ کردے اس کا گزارہ، اور روزی دے اس کو جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہو، اور جو کوئی بھروسہ رکھے اللہ پرتو وہ اس کو کافی ہے،  تحقیق اللہ پورا کر لیتا ہے اپنا کام ، اللہ نے رکھا ہے ہر چیز کا اندازہ۔"

فائدہ (تفسیر)نمبر۸: یعنی: اللہ سے ڈر کر اس کےاحکام کی بہرحال تعمیل کرو، خواہ کتنی ہی مشکلات وشدائد کا سامنا کرنا پڑے، حق تعالیٰ تمام مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنادے گا اور سختیوں مین بھی گزارہ کا سامان کردے گا۔"

(ترجمہ وتفسیر ماخوذ از  تفسیر عثمانی، ص: ۷۴۰)

حدیث مبارک میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» ، وقال: «هم سواء»".

( کتاب المساقات،ج: ۳، صفحہ: ۱۲۱۹، ط: دار احیاء التراث ، بیروت۔مشکاۃ المصابیح،  باب الربوا، ص: 243، قدیمی)

      مشكاة المصابيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءا أيسرها أن ینکح الرجل أمه».

( باب الربوا ،صفحہ: ۲۴۶، ط:  قدیمی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100118

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں