بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بنیان پہننا سنت ہے؟


سوال

 میں سعودی عرب میں اسوقت ملا زمت کرتا ہوں۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے ايک بھائی نے سوال پوچھا ہے۔کہ  کیا بنیا ن پہننا سنت عمل ہے؟ جواب عنایت فرما کر عنداللہ مشکو ر ہوں۔

جواب

جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس میں بنیان کا ذکر نہیں، اس لئے بنیان کو سنت نہیں قرار دیا جاسکتا ہے، تاہم فی نفسہ  بنیان کا پہننا جائز ہے۔

زاد المعاد میں ہے:

"ولبس البرود اليمانية والبرد الأخضر، ولبس الجبة والقباء والقميص والسراويل والإزار والرداء والخف والنعل، وأرخى الذؤابة من خلفه تارة وتركها تارة. وكان يتلحى بالعمامة تحت الحنك".

(زاد المعاد في هدي خير العباد: فصل غالب لبسه صلى الله عليه وسلم وأصحابه القطن (1/ 138)، ط. مؤسسة الرسالة، بيروت - مكتبة المنار الإسلامية، الكويت، الطبعة: السابعة والعشرون : 1415هـ = 1994م)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(الأنصار شعار ) : بكسر أوله ويفتح وهو الثوب الذي يلي شعر البدن (والناس دثار) بكسر الدال وهو الثوب الذي فوق الشعار، شبه الأنصار بالشعار لرسوخ صداقتهم وخلوص مودتهم، والمعنى أنهم أقرب الناس إلي مرتبة وأولاهم مني منزلة".

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: باب جامع المناقب (9/ 4009)، ط.  دار الفكر، بيروت ، الطبعة الأولى:1422هـ = 2002م)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144405101842

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں