بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بالٹی میں دو انگلی ڈالنے سے پانی کے مستعمل ہونے کا حکم


سوال

اگر علم کی کمی کے باعث  یا بھول کر ماء مستعمل (بالٹی کے پانی میں دو انگلیاں ڈبو ئیں پھر اسی پانی  )سے غسل کر لیا تو کیا پاکی حاصل ہوگئی؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  بالٹی کے پانی میں دو انگلیاں ڈبونے سے پانی مستعمل نہیں ہوگا؛ لہذا اس پانی سے غسل کرنا درست ہے۔

ملحوظ رہے کہ اگر انگلی یا ہاتھ پر نجاستِ حقیقہ لگی ہو تو اسے بالٹی میں ڈالنے سے بالٹی کا پانی ناپاک ہوجائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"و يشترط إدخال عضو تام لصيرورة الماء مستعملًا في الرواية المعروفة عن أبي يوسف - رحمه الله - كذا في المحيط. و بإدخال الأصبع أو الأصبعين لايصير مستعملًا و بإدخال الكفّ يصير مستعملًا. كذا في الظهيرية".

(کتاب الطہارہ،الباب الثالث فی المیاہ،ج:1،ص:22،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407101813

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں