بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

بالوں کو رنگنے والے شیمپو استعمال کرنے کا حکم


سوال

میوسن کمپنی کا جو "ہییرکلر پلس کنڈیشنر شیمپو" ہے اس کا استعمال کرنا شرعاًجائز ہےیا نہیں؟اس کے استعمال کے بعد وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

جواب

سوالِ بالا میں تین امور ہیں:(1)شیپمو/کنڈیشنر کااستعمال کرنا(2)ہییرکلر کے ذریعہ بال رنگین کرنا(3) ان کےاستعمال کے بعد وضو اور غسل کا حکم

(1)شیپمو/کنڈیشنر کااستعمال کرنا:

کسی بھی کمپنی کا ایساشیمپو/کنڈیشنر جس کے اجزاء ترکیبی میں حرام یا ناپاک چیز شامل ہونےکا یقین یا ظنِ غالب نہ ہو،اسےبالوں کی صفائی کے لیے استعمال کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔

الاشباۃ والنظائر میں ہے:

"‌اليقين ‌لا ‌يزول بالشك."

(القاعدة الفقهية، سادسا، ج:1، ص:29، ط:دارابن قيم)

تبیین الحقائق میں ہے:

"إذا طبخ ‌بالأشنان والصابون يجوز الوضوء به."

(كتاب الطهارة، باب الغسل، ج:1، ص:19، ط:دارالكتاب الاسلامي)

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

"وبهذا يتيين حكم الكحول المسكرة (Al Cohals) التي عمت بها البلوى اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية والعطور والمركبات الأخرى، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها أو طهارتها، وإن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ولا يحرم اسـتـعـمـالـه مـركـبـة مـع المواد الأخرى ولا يحكم بنجاستها أخذاً بقول أبي حنيفة رحمه الله . وإن معظم الـكـحـول التـي تـسـتـعـمـل الـيـوم في الأدوية والعطور وغيرها لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الـحـبـوب أو القشور أو البترول وغيره، كما ذكرنا في باب بيع الخمر من كتاب البيوع، وحينئذ هناك فسحة فـي الأخـذ بقول أبي حنيفة عند عموم البلوى، والله سبحانه أعلم."

( كتاب الأشربة، باب تحريم الخمر،ج:3، ص:208، ط:مکتبه دارالعلوم کراچی)

(2)ہیئرکلر کے ذریعہ بال رنگین کرنا:

ہیئرکلر کے ذریعہ بالوں کو رنگنا جائز ہے،البتہ خالص کالے رنگ سے رنگنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ  احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت اور سخت وعیدآئی ہے، صرف حالتِ جہاد میں دشمن کو مرعوب رکھنے اور اس کے سامنے جوانی اور طاقت کے اظہار کے لیے کالا خضاب استعمال کرنے کی  اجازت دی گئی ہے۔ ابوداودشریف کی روایت میں ہے:

"عن ابن عباس، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : "يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد ‌كحواصل ‌الحمام، لا يريحون رائحة الجنة."

(اول كتاب الترجل، باب ما جاء في خضاب السواد، ج:6، ص:272، ط:دار الرسالة العالمية)

"حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماارشادفرماتے ہیں: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جوسیاہ خضاب لگائیں گے،جیسے کبوترکاسینہ،ان لوگوں کوجنت کی خوشبوبھی نصیب نہ ہوگی۔"

البتہ خالص کالے رنگ کے علاوہ دیگر رنگوں کے خضاب لگانا جائز ہے،یہی حکم آج کل بازاروں میں دست یاب  ہیئر کلر شیمپویادیگر رنگ ساز جدیدکیمکلز کو استعمال کرنےکاہے، یعنی خالص سیاہ (کالا) کلر  بالوں پر لگانا ناجائز ہے، جب کہ کالے رنگ کے علاوہ دوسرے کلر مثلاً خالص براؤن ،  سیاہی مائل براؤن  یا اس کے علاوہ دیگر کلر لگانا جائز ہے۔

المحیط للبرہانی میں ہے:

"اعلم بأن الزينة نوعان: نوع يرجع إلى البدن، ونوع يرجع إلى غيره، نبدأ بالذي يرجع إلى البدن، فنقول اتفق المشايخ أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة، وأنه من سير المسلمين وعلاماتهم، والأصل فيه قوله عليه السلام: «غيروا الشيب ولا تشبهوا باليهود» وقال الراوي: رأيت أبا بكر على منبر رسول الله عليه السلام ولحيته كأنها صرام عرفج، والعرفج اسم لبنت في البادية هي أشد حمرة من النار.

وأما ‌الخضاب ‌بالسواد: فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ، ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء، وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه عليه عامة المشايخ. وبنحوه ورد الأثر عن عمر رضي الله عنه، وبعضهم جوزوا ذلك من غير كراهية، روي عن أبي يوسف أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها."

(كتاب الإستحسان والكراهية، ‌‌الفصل الحادي والعشرون في الزينة، ج:5، ص:377، ط:دارالكتب الإسلامية)

(3)وضو اور غسل کا حکم:

اس طرح کے شیمو/کنڈیشنر یا رنگ ساز کیمیکلز کو استعمال کرنے کے بعد  اگر بالوں کو اچھی طرح دھو لیا جائےاوران پرشیمپو یا کیمیکل کی تہہ  جمی ہوئی نہ ہو  وضو اور غسل ہوجاتا ہے، تاہم اگر وضو یا غسل کے بعد بالوں میں تہہ پائی گئی ہوتو اس کو ہٹا اس جگہ کو دھو لیاجائے،مکمل وضو یا غسل لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"في فتاوى ما وراء النهر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز.

والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الوجيز."

(كتاب الطهارة ، الفصل الاول في فرائض الغسل، ج:1 ص:4، ط:دارالفكر)

وفيه ايضا:

"وإن كان على رأسها خضاب فمسحت على الخضاب إذا اختلطت البلة بالخضاب وخرجت عن حكم الماء المطلق لا يجوز المسح. كذا في الخلاصة والله أعلم."

(كتاب الطهارة ، الفصل الاول في فرائض الغسل ، ج:1 ص:6، ط:دارالفكر)

البحر الرائق میں ہے :

"إذا توضأ أو اغتسل وبقي على يده ‌لمعة فأخذ البلل منها في الوضوء أو من أي عضو كان في الغسل وغسل اللمعة يجوز."

( كتاب الطهارة ، الماء المستعمل ، ج:1 ، ص:98 ، ط: دار الكتاب الاسلامي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144403100353

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں