بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بالوں میں ڈارک براؤن کلر لگانا کیسا ہے، کیا نماز ہوجائے گی؟


سوال

بالوں میں ڈارک براؤن کلر لگانا کیسا ہے، کیا نماز ہوجائے گی؟

جواب

کالے رنگ کے علاوہ دوسرے کلر کے خضاب کا استعمال جائز ہے، اس لیے ڈارک براوٴن کلر لگانا بھی جائز ہے۔ اور اس كو لگا کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ وضو کے دوران مسح سر کے بالوں پر کیا ہو، یعنی کلر دھونے سے پہلے خشک ہوکر جب اس کی تہہ جمی ہوئی ہو، اس پر مسح نہ کیا ہو۔ 

"عن جابر بن عبد الله قال: أتى بأبى قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضًا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « غيّروا هذا بشيء واجتنبوا السواد»."

(أخرجه الإمام مسلم في باب في صبغ الشعر و تغيير الشيب (6/ 155) برقم (5631) ط.  دار الجيل بيروت)

المحیط البرہانی میں ہے:

"اتفق المشايخ أنّ الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة، وأنه من سير المسلمين وعلاماتهم، والأصل فيه قوله عليه السلام: «غيّروا الشيب ولاتشبهوا باليهود»."

(كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الحادي والعشرون في الزينة، واتخاذ الخادم للخدمة (5/ 245)، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144202201516

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں