بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بلغم ميں جما ہوا خون آنے کا حکم


سوال

بلغم میں جما ہوا خون باہر آجائے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب

بلغم ميں جما ہوا خون آنے سے وضو نہيں ٹوٹتا،الا يہ کہ منہ بھر کر  قے کی صورت میں ہو،تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

لما في  الفتاوى الهندية:

"وإن قاءدما إن كان سائلا نزل من الرأس ينقض اتفاقا وإن كان علقا لا ينقض اتفاقا وإن صعد من الجوف إن كان علقا لا ينقض اتفاقا إلا أن يملأ الفم وإن كان سائلا فعلى قول أبي حنيفة ينقض وإن لم يكن ملء الفم كذا في شرح المنية وهو المختار. كذا في التبيين وصححه عامة المشايخ. هكذا في البدائع".

(كتاب الطهارة، باب في نواقض الوضوء،ج:1،ص: 11،ط: رشيدية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144505101401

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں