بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بال یا ناخن کاٹنے سے وضو کا حکم


سوال

بال يا ناخن كاٹنے سے وضو ٹوٹ  جاتا  ہے یا نہیں؟

جواب

بال یاناخن کاٹنا وضو کو توڑنے والی چیزوں میں شامل نہیں ہے،لہذااس سے وضو نہیں ٹوٹتا،البتہ اگر بال یا ناخن کاٹتے ہوئے  خون نکل آیا اور اپنی جگہ سے بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها) ما يخرج من غير السبيلين ويسيل إلى ما يظهر من الدم والقيح والصديد والماء لعلة وحد السيلان أن يعلو فينحدر عن رأس الجرح. كذا في محيط السرخسي وهو الأصح. كذا في النهر الفائق. الدم إذا علا على رأس الجرح لا ينقض الوضوء وإن أخذ أكثر من رأس الجرح. كذا في الظهيرية والفتوى على أنه لا ينقض وضوءه في جنس هذه المسائل. كذا في المحيط."

(کتاب الطهارۃ،الباب الأول في الوضوء،الفصل الخامس في نواقض الوضوء،ج1،ص10،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409101642

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں