بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بکری کے بچے کو بھینس کا دودھ پلانے کا حکم


سوال

بکری کے بچے کو بھینس کا دودھ پلا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

بکری کے بچے کو بھینس کا دودھ یا کوئی بھی پاک و حلال چیز کھلائی پلائی جا سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ نجس و ناپاک چیز کھلانا جائز نہیں ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا ‌تنجس ‌الخبز أو الطعام لا يجوز أن يطعم الصغير أو المعتوهأو الحيوان المأكول اللحم، وقال أصحابنا: لا يجوز الانتفاع بالميتة على أي وجه، ولا يطعمها الكلاب والجوارح، كذا في القنية."

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:344، ط: بولاق مصر)

فیہ ایضاً:

"في جامع الجوامع إذا تنجس الماء القليل بوقوع النجاسة فيه إن تغيرت أوصافه لا ينتفع به من كل وجه كالبول وإلا جاز ‌سقي ‌الدواب وبل الطين ولا يطين به المسجد. كذا في التتارخانية."

(كتاب الطهارة، الباب الثالث في المياه، الفصل الثاني فيما لا يجوز به التوضؤ، ج:1، ص:25، ط: بولاق مصر)

الموسوعہ الفقہیہ میں ہے:

"اللبن إما أن يكون من حيوان أو من آدمي فإن كان من حيوان حي مأكول اللحم كالبقر والغنم فهو طاهر بلا خلاف لقوله تعالى: {وإن لكم في الأنعام لعبرة نسقيكم مما في بطونه من بين فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربين}."

(مصطلح: لبن، الطاهر والنجس من الالبان، ج: 35، ص: 196، ط: مطابع دار الصفوة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144406100971

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں