بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بکرے کے گردے کھانے کا حکم


سوال

کیا بکرے کے گردے کھانا مکروہ  ہے؟

جواب

حلال جانور کے سات اجزاء حرام ہیں، ان کا کھانا جائز نہیں ہے، وہ سات چیزیں یہ ہیں:

1۔ دمِ مسفوح یعنی بہنے والا خون

2۔ پیشاب کی جگہ

3۔ خصیے (فوطے)

4۔ پاخانے کی جگہ

5۔ غدود (سخت گوشت)

6۔ مثانہ (پیشاب کی تھیلی)

7۔ پتّہ

ان سات اشیاء کے علاوہ جانور کے بقیہ اجزاء حلال ہیں، لہذا گردے کا کھانا حلال ہے، اس میں شبہ نہیں کرنا چاہیے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 749):

"(كره تحريمًا) وقيل: تنزيهًا والأول أوجه (من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر) للأثر الوارد في كراهة ذلك."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201157

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں