بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیٹیوں کی شادی کے لیے خریدے گئے سونے پر زکات کا حکم


سوال

ہم نے بچیوں کی شادی کی غرض سے سونا خرید کر رکھا ہے،  کیا اس سونے پر زکوۃ واجب ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ سونا اگر والد یا والدہ کی ہی ملکیت ہے تو نصاب پورا ہونے کی صورت میں ان پر زکات واجب ہوگی، البتہ اگر وہ بچیوں کی ملکیت کردیا گیا ہو، اور  وہ نا بالغہ ہوں تو ان کے سونے پر زکات واجب نہ ہوگی۔

نصاب پورا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر سونا ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو، یا سونے کے ساتھ، بنیادی ضرورت سے زائد  کچھ نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت بھی موجود ہو اور سونے اور ان اموال کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200535

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں