بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیت الخلاء میں تلاوت کرنا اور باہر سے ہونے والی تلاوت سننے کا حکم


سوال

بیت الخلا میں قرآن مجید کی تلاوت یا دیگر اذکار زبان سے پڑھنا ممنوع ہے، باہر کی تلاوت کی آواز بیت الخلا میں آرہی ہو تو اس صورت میں آپ مکلف نہیں ہیں، زبان سے نہ دھرائیں اور قضائے حاجت کر کے باہر آجائیں۔ فقط واللہ اعلم فتوی نمبر : 143908200549 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن اس جواب کا حوالہ چاہیے۔

جواب

۱) واضح رہے کہ بیت الخلاء میں اور کپڑے اترے ہوئے ہونے کی حالت میں ذکر و اذکار و تلاوت کرنا مکروہ اور خلاف ادب  ہے بلکہ ان دونوں حالات میں ہر قسم کی بات کرنا بھی مکروہ ہے۔ذیل میں اس مناست سے چند احادیث کا ذکر ہے:

الف)"وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يخرج الرجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان، فإن الله يمقت على ذلك رواه أحمد، وأبو داود، وابن ماجه"

(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الطہارۃ ، باب آداب الخلاء ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۷۸، دار الفکر)

 ترجمہ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (ایک ساتھ) دو شخص پاخانہ کے لئے اس طرح نہ جائیں کہ دونوں اپنی شرم گاہ کھولے ہوئے ہوں اور باتیں کرتے ہوئے ہوں کیونکہ اس سے اللہ تعالی کا غضب ناک ہوجاتا ہے (مظاہر حق)۔

ب)   "عن ابن عمر  أن رجلا سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول، فلم يرد عليه ". مخرج في كتاب مسلم من حديث الثوري."

(سنن الکبری للبیہقی،کتاب الطہارۃ، باب كراهية الكلام عند الخلاء ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۶۱،دار الکتب العلمیۃ)

 ترجمہ :ابن عمر رضی اللہ عنہ سے رویات ہے کہ  ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، حضور اس وقت قضاء حاجت کر رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جواب نہیں دیا۔

ج) "عن أنس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس خاتما نقشه محمد رسول الله، فكان إذا دخل الخلاء وضعه "

(کتاب الطہارۃ، باب وضع الخاتم  عند دخول الخلاء ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۵۴،دار الکتب العلمیۃ)

ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک انگوٹھی پہنتے تھے جس پر نقش تھا "محمد رسول اللہ"، جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اس کو اتار دیتےتھے۔

ان احادیث اور دیگر احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بیت الخلاء میں قرآن، دعاء اور دیگر کلام کرنا ممنوع اور خلاف ادب ہے۔

۲)  بیت الخلاء میں باہر سے تلاوت کی  آواز آئے تو اس میں سائل پر کوئی حرج نہیں ہے اس لیے کہ یہ سننے والے کے اختیار سے باہر ہے اور شرعیت مطہرہ نے کسی کو ایسے حکم کا مکلف نہیں بنایا جو اس کی طاقت سے باہر ہو، باقی اس کی ممانعت کے متعلق کوئی نص (قرآن یا حدیث) موجود نہیں ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) البداءة (بالتسمية) قولا وتحصل بكل ذكر، لكن الوارد عنه - عليه الصلاة والسلام - «باسم الله العظيم، والحمد لله على دين الإسلام» (قبل الاستنجاء وبعده) إلا حال انكشاف وفي محل نجاسة فيسمي بقلبه (قوله: إلا حال انكشاف إلخ) الظاهر أن المراد أنه يسمي قبل رفع ثيابه إن كان في غير المكان المعد لقضاء الحاجة، وإلا فقبل دخوله، فلو نسي فيهما سمى بقلبه، ولا يحرك لسانه تعظيما لاسم الله تعالى."

(کتاب الطہارہ، سنن الوضوء ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۰۸،ایچ ایم سعید)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح  میں ہے:

"و" لهذا "يستعيذ" أي يعتصم "بالله من الشيطان الرجيم قبل دخوله" وقبل كشف عورته»

"قبل دخوله" الأولى التفصيل وهو إن كان المكان معدا لذلك يقول قبل الدخول وإن كان غير معد له كالصحراء ففي أو إن الشروع كتشمه الثياب مثلا قبل كشف العورة وإن نسي ذلك أتى به في نفسه لا بلسانه."

(کتاب الطہارۃ، فصل فی ما یجوز بہ الاستنجاء جص نمبر ۵۱،دار الکتب العلمیۃ)

السنن الكبرى  میں ہے:

"وقد أنبأ أبو عبد الله الحافظ، ثنا علي بن حمشاذ، ثنا عبيد بن عبد الواحد، ثنا يعقوب بن كعب الأنطاكي، ثنا يحيى بن المتوكل البصري، عن ابن جريج، عن الزهري، عن أنس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم " لبس خاتما نقشه محمد رسول الله، فكان إذا دخل الخلاء وضعه " وهذا شاهد ضعيف والله أعلم."

(کتاب الطہارۃ، باب وضع الخاتم  عند دخول الخلاء ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۵۴،دار الکتب العلمیۃ)

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"عن أنس - رضي الله عنه - قال: «كان النبي - صلى الله عليه وسلم - إذا دخل الخلاء نزع خاتمه» . رواه أبو داود، والنسائي، والترمذي 

(نزع) : أي: أخرج من أصبعه (خاتمه) : بفتح التاء، وقيل بكسرها لأن نقشه، محمد رسول الله، وفيه دليل على وجوب تنحية المستنجي اسم الله واسم رسوله والقرآن كذا قاله الطيبي. قال الأبهري: ويعم الرسل. وقال ابن حجر: استفيد منه أنه يندب لمريد التبرز أن ينحي كل ما عليه معظم من اسم الله تعالى أو نبي أو ملك فإن خالف كره اهـ. وهو الموافق لمذهبنا."

(کتاب الطہارۃ ، باب آداب الخلاء ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۷۸، دار الفکر)

مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"وعن أبي سعيد - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ( «لا يخرج الرجلان يضربان الغائط كاشفين عن عورتهما يتحدثان، فإن الله يمقت على ذلك» ) رواه أحمد، وأبو داود، وابن ماجه.

(على ذلك) أي: على ما ذكر وهو المركب من محرم وهو كشف العورة بحضرة الآخر، ومكروه وهو التحدث وقت قضاء الحاجة. قال في شرح السنة: لا يذكر الله بلسانه في قضاء الحاجة ولا في المجامعة بل في النفس."

(کتاب الطہارۃ ، باب آداب الخلاء ج نمبر ۱ ص نمبر ۳۸۶، دار الفکر)

السنن الكبرى  میں ہے:

"باب كراهية الكلام عند الخلاء: أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان، أنا أبو القاسم سليمان بن أحمد الحافظ، أنا ابن أبي مريم، ثنا الفريابي، ثنا سفيان، عن الضحاك بن عثمان، عن نافع، عن ابن عمر " أن رجلا سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول، فلم يرد عليه ". مخرج في كتاب مسلم من حديث الثوري."

(کتاب الطہارۃ، باب كراهية الكلام عند الخلاء ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۶۱،دار الکتب العلمیۃ)

تفسير القرطبي  میں ہے:

"لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا أنت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين (286).....الرابعة- قوله تعالى: (لا يكلف الله نفسا إلا وسعها) التكليف هو الأمر بما يشق عليه. وتكلفت الأمر تجشمته، حكاه الجوهري. والوسع: الطاقة والجدة. وهذا خبر جزم. نص الله تعالى على أنه لا «3» يكلف العباد من وقت نزول الآية عبادة من أعمال القلب أو الجوارح إلا وهي في وسع المكلف وفي مقتضى إدراكه وبنيته، وبهذا انكشفت الكربة عن المسلمين في تأولهم أمر الخواطر."

(سورۃ بقرۃ ج نمبر ۳ ص نمبر ۴۲۴،دار الکتب المصریۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100145

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں