بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

احادیث میں موجود بیع من یزید مسجد میں ہوئی تھی یا مسجد کے باہر؟


سوال

شرعاً مسجد میں خرید و فروخت کرنا منع ہے، تو بیع من یزید کے جواز کے استدلال میں جو حدیث پیش کی جاتی ہے، تو وہ بیع کہاں ہوئی تھی؟ مسجد میں ہوئی تھی یا مسجد کے باہر ہوئی تھی؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد میں  سامان لاکر خریدوفروخت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ زبانی طور پر  خرید وفروخت کی گنجائش  ہے  ۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ  بیع کہا ں ہوئی اس کی صراحت نہیں ہے ، اگر مسجد میں ہوئی ہے تو  یہ خاص واقعہ  ہو گا ، البتہ عمومی طور پر مسجد میں خرید وفروخت کی گنجائش  نہیں ہے ۔

فتح القديرمیں ہے :

"(ولا بأس بأن يبيع ويبتاع في المسجد من غير أن يحضر السلعة)؛ لأنه قد يحتاج إلى ذلك بأن لايجد من يقوم بحاجته إلا أنهم قالوا: يكره إحضار السلعة للبيع والشراء. لأن المسجد محرر عن حقوق العباد، وفيه شغله بها، و يكره لغير المعتكف البيع والشراء فيه؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «جنبوا مساجدكم صبيانكم إلى أن قال: وبيعكم وشراءكم»."

 (کتاب الصوم ،باب الاعتکاف،2/ 397،شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144404100156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں