بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بائع کا مبیع کی قیمت میں کمی کرنے کا حکم


سوال

 ہمارے یہاں لکڑی منڈی میں یہ عرف چلا آرہاہے کہ بائع اور مشتری کی باہم رضامندی سے مشتری خریدار کو کچھ وزن کی معافی ہوتی ہے مثلا کل لکڑیاں ہیں بیس کوئنٹل چالیس کلو ہے، تو اس میں بائع کو صرف انیس کوئنٹل کی قیمت ملتی ہے،  ایک کوئنٹل  اور اوپر جتنے کلو بھی ہو وہ معاف ہوتا ہے،  یعنی اسکی قیمت ادا نہیں کرنی ہوتی ہے،  ایک کوئنٹل اور اسکے جتنے کلو اوپر ہوتا ہے وہ بائع کو معاف کرنا پڑتا ہے تو کیا اس طرح لکڑی کی خریدوفروخت درست اور جائز ہے براہ کرم مسئلہ کی وضاحت فرمادیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر بائع رضامندی سے بیس کوئنٹل لکڑی دے کر انیس کوئنٹل کی قیمت لیتا ہے تو جائز ہے، اور اگر بائع راضی نہیں ہےتو ایک کوئنٹل کی قیمت نہ دینا ناجائز ہوگا، اگر یہ رقم دنیا میں نہیں دے گا تو آخرت میں دینا پڑے گا، ہاں اگر اس طرح سودا کرتا ہے کہ مثلاً اکتالیس کوئنٹل کی یہی قیمت ہے اور بائع مشتری دونوں راضی ہوجائیں تو درست ہے۔

البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:

"(ويجوز للبائع أن يزيد المشتري في المبيع ‌ويجوز ‌أن ‌يحط عن الثمن) ش: زيادة البائع للمشتري في المبيع جائزة ما دام المبيع قائما لأن المعقود عليه ما دام قائما كان العقد قائما لقيام أثره وهو الملك المستفاد في العين فإذا هلك لم تصح الزيادة لأن العدم لا يصح تغييره بخلاف الحط فإنه يصح بعد هلاك المعقود عليه، فإنه لو أمكن أن يجعل تغييرا للعقد بأن كان العقد قائما جعل تغييرا وإن لم يكن جعله تغييرا كما في حالة الهلاك جعل برءا عن الدين فصح الحط في الحالين."

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، 254/8، ط: دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509100664

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں